پاکستان اور سندھ میں سیاسی اتحاد

0
508
تحریر: ایاز لطیف پلیجو ماہرِ قانون و سیاست دان

 

 

 

 

 

 

پاکستان میں اتحادی سیاست کا آغاز 1952ء میں ہوا جب ڈیموکریٹک یوتھ لیگ اورایسٹ پاکستان کمیونسٹ پارٹی نے مسلم لیگ کے خلاف اتحاد بنایا تھا۔

دی یونائیٹڈ فرنٹ 1953ء میں چار پارٹیوں پر مبنی تھا جس میں عوامی مسلم لیگ، نظام اسلام،جنتا دل اورکرشک پراجاپارٹی شامل تھیں،1953 میں مشرقی پاکستان میں ہونے والے صوبائی انتخابات میں دی یونائیٹڈ فرنٹ نے 223 نشستیں جیت کر مسلم لیگ کو بری طرح شکست سے دو چار کیا تھا، مسلم لیگ صرف 9 سیٹوں پر انتخاب جیت سکی تھی۔ ا س اتحاد کے بعد اتحادی سیاست کی فضا جو قائم ہوئی اس کے اثرات جنرل ایوب خان کے خلاف دیکھے جا سکتے ہیں۔

پاکستان کے مختلف صوبوں کے ون یونٹ مخالف سیاسی لیڈران کی میٹنگ 26-27 آگست 1955ء کو کراچی میں ہوئی جس ميں اینٹی ون یونٹ ویسٹ پاکستان کنوینشن کے نام سے ایک محاذ بنایا گیا جس میں جی ایم سید، حیدربخش جتوئی، شیخ عبدالمجید، غلام مصطفیٰ بھرگڑی، عبدالحفیظ لاکھو، ڈاکٹر گل محمد، سید علی مطاہر، غلام محمد، خان عبدالولی خان، عبدالصمد خان اچکزئی، ارباب سکندر خان، شمیم جان خان، پیر الہٰی بخش، قادر بخش نظامانی، عبدالقادر کھوکھر، عبدالواحد سومرو، محمد ہاشم گذدر، علی نواز وفائی، دین محمد علیگ شامل تھے۔

جب محمد ايوب کهڑو 1958ء ميں دفاع کے وزير تھے، تب حيدرآباد میں  سندھ متحده محاذ کی ميٹنگ ہوئی جس کے چيئرمين محمد ايوب کهڑو بنے، ميٹنگ ميں جی ايم سيد، حفيظ قريشی، رسول بخش پليجو، مير علی بخش تالپر اور ديگر ليڈر شامل تھے۔

فاطمہ جناح جو قائدِ اعظم کے انتقال کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر چکی تھیں ایک بار پھر سے وہ سیاست کے میدان میں سرگرم ہوگئی تھیں، انہوں نے 1964 کے صدارتی انتخابات کے دوران ایوب خان کے خلاف (متحدہ اپوزیشن) کے نام سے ایک اتحاد بنا یا لیکن اس اتحاد کے خلاف منفی پرو پیگنڈا یہ کیا گیا کہ اسلام خواتین کو حکومت کرنے کی اجازت نہیں دیتا، شاید اس لیے فاطمہ جناح اور اس کے اتحادیوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

اس اتحاد کے بعد 30اپریل 1967 نوابزادہ نصراللہ خان کا پانچ پارٹیوں پر مبنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی اتحا د بنا، اس سے پہلے ڈيک بھی بن چکا تھا، اتحاد نے ایوب خان کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا، بعد میں اس اتحاد کا نام بدل کر پاکستان ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی رکھا گیا ،یہ اتحاد اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بہت حد تک کامیاب رہا۔ اتحادی سیاست کا سلسلہ ، گزرتے وقت کے ساتھ ملک کے سیاسی کلچر میں عام ہو گیا تھا۔

سنہ 1967ء ميں بزمِ صوفياء سندھ بنا جس ميں جی ايم سيد، رسول بخش پليجو، حفيظ قريشی، ابراہيم جويو اور سندھ کے تمام قابل ذکر عوام دوست گادی نشين، صوفی، وڈيرے اور اہم اديب شامل تهے۔

ملک ٹوٹنے کے بعد پہلی مرتبہ 1977ء میں انتخابات منعقد ہوئے تو اس میں اتحادی سیاست نے بھی خوب اپنے رنگ دکھائے،پاکستان پیپلز پارٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 9 سیاسی و مذہبی جماعتوں نے مل کرپاکستان قومی اتحاد (پاکستان نیشنل الائنس یا پی این اے) کے نام سے ایک اتحاد بنایا، پی این اے کو صرف 36 نشستوں پرکامیابی ملی ،انتخابات کے بعد پی این اے نے ذوالفقار علی بھٹوکی حکومت پر دھاندلی کا الزام لگا کر نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور ساتھ ہی اس حکومت کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکا لنا شروع کردیں۔

جمہوریت کی بحالی کے لیے 6 فروری 1981ء میں ایم آر ڈی تحریک کی بنیاد رکھی گئی

جمہوریت کی بحالی کے لیے 6 فروری 1981ء میں ایم آر ڈی تحریک کی بنیاد رکھی گئی اس تحریک کا بنیادی مقصد جمہوریت کی بحالی تھا ،اس تحریک کی قیادت نصرت بھٹو اور بے نظیر بھٹو نے کی،ایم آر ڈی کی تحریک میں 10 سے زیادہ سیاسی جماعتیں شامل تھیں، اس تحریک کے دوران متعدد سیاسی رہنماؤں رسول بخش پليجو، فاضل راہو، معراج محمد خان، سيد عالم شاہ وغيره کو جیل ميں رکھا گيا اور سیاسی کارکنوں کو اس تحریک کے دوران کوڑے پڑے تھے، یہ تحریک شروع میں پنجاب، کے پی کے اور سندھ میں خاصی مقبول رہی لیکن کچھ عرصے کے بعد یہ تحریک صرف سندھ تک محدود ہو کر رہ گئی تھی ۔

سنہ 1988 ء ميں سندھ قومی اتحاد بنا جس ميں جي ايم سيد، رسول بخش پليجو، محمود ہارون، الہٰی بخش سومرو، رحيم بخش سومرو، عبدالحميد خان جتوئی، کوڑل شاہ، خانم گوہر اعجاز، ابراہيم جويو اور سندھ کے تمام قابل ذکر وڈيرے، جاگيردار، سردار اور ليڈر شامل تهے۔

اسلامی جمہوری اتحاد کی بنیاد 1988ء میں سیاسی رہنماؤں نے رکھی اور اس کی قیادت غلام مصطفیٰ جتوئی کے سپرد کی گئی، اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے ہی نواز شریف قومی سطح پر ایک سیاسی لیڈر کے طورپر متعارف ہوئے تھے ، یہ اتحا د بھی پی این اے کی طرح 9 سیاسی و مذہبی پارٹیوں پرمشتمل تھا، یہ اتحاد 1988ء کے الیکشن سے پہلے وجود میں آیا، یہ اتحاد صوبہ پنجاب میں کامیاب ہوکرحکومت بنانے کی پوزیشن میں آگیا، قومی اسمبلی میں پاکستان پیپلز پارٹی 94 نشستوں پر انتخاب جیت کر مرکز ی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

قبل از وقت انتخابات 1990ء میں ہوئے، انتخابی میلہ سجا تو اٰس انتخابی دنگل میں دوبڑے اتحاد بنے جن میں پیپلز ڈیموکریٹک الائنس اور اسلامی جمہوری اتحاد جو کہ پہلے سے بنا ہوا تھا۔ آئی جے آئی کی قیادت نواز شریف، جب کہ پی ڈی اے کی قیادت بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں۔ اس انتخابی معرکے میں اسلامی جمہوری اتحاد قومی اسمبلی کی 106 نشستوں پر الیکشن جیت کر مر کز میں حکومت بنا نے کی پوزیشن میں آگیا جبکہ اس کے مدِّ مقابل پی ڈے اے کو صرف 45 سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔

اس کے بعد 1997ء میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے نام سے ایک نیا اتحاد بنا جس کی قیادت نصراللہ خان کررہے تھے، یہ اتحاد نواز شریف کی حکومت کے خلاف بنایا گیا تھا

ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک بار پھر ملک کی 15 سے زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوگئیں اور ایک نئے سیاسی اتحاد کی بنیاد رکھی گئی، اس اتحاد کا نام “تحریک بحالی جمہوریت” یا اے آر ڈی رکھا گیا تھا، اس اتحاد کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں ملک کی دو سب سے بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پہلی مرتبہ کسی ایک اتحاد میں شامل ہوئی تھیں، اس سے پہلے ہمیشہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کی حکومتوں کو کمزور کرنے میں اپنی قوت صرف کیا کرتی تھیں۔ اس اتحاد ميں ايم کيو ايم حقيقی کو بھی شامل کيا گيا۔

سنہ 2001ء ميں سندھ ميں امتياز شيخ، ارباب غلام رحيم اور جلال محمود شاہ کی سربراہی ميں سندھ ڈيموکريٹک الائنس بنا۔

انتخابی میلہ 2002ء کو سجا ،اس مرتبہ بھی ہمیشہ کی طرح مذہبی جماعتوں کا اتحاد بنا ،جس کا نام متحدہ مجلس عمل(ایم ایم اے) رکھا گیا اِس اتحاد میں ملک کی چھ مذہبی جماعتیں شامل تھیں جن میں جمعیت العلماء اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی شامل تھیں۔ ایم ایم اے انتخابات میں صوبہ سرحد(موجودہ خیبرپختونخوا) میں صوبائی حکومت جبکہ صوبہ بلوچستان میں مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئی، ایم ایم اے ان انتخابات میں قومی اسمبلی کی 57 جنرل نشستوں پر کامیابی حاصل کر کے ملک کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن گئی۔

اسی الیکشن کے دوران غلام مصطفیٰ جتوئی کی قيادت ميں ایک اور بھی اتحاد بنا تھا جس کا نام نیشنل الائنس تھا تاہم یہ اتحاد کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا اور اس اتحاد کو صرف 16 نشستوں پر کامیابی مل سکی ۔

سنہ 2002ء ميں پاکستان آپريسڈ نيشنز موومینٹ (پونم) اتحاد بنا جس ميں اے این پی، ملی عوامی پارٹی، عوامی تحريک، سرائيکی پارٹی، ترقی پسند پارٹی، نيشنل پارٹی اور دوسرے بلوچ، سندھی، سرائيکی، پختون گروپس شامل تهے۔

سنہ 2003ء ميں سندھ ميں اينٹی گريٹر تھل کينال ایکشن کميٹی بنی جس ميں پيپلز پارٹی، نواز ليگ، عوامی تحريک، جے يو آئی، جماعت اسلامی و ديگر پارٹیز اور وڈيرے شامل تھے۔

سنہ 2007ء ميں اے پی ڈی ايم بنا جس ميں سندھ کی قومپرست اور بائيں بازو کی جماعتيں، عوامی تحريک، ترقی پسند پارٹی، جماعت اسلامی، نواز ليگ، جے يو آئی، پی ٹی آئی، رسول بخش پليجو، قاضی حسين احمد، عمران خان، حميدالدين مشرقی، آئی ايس آئی کے سابق سربراہ ضياالحق کے دستِ راست اور افغان جہاد کے ماسٹر مائينڈ جنرل حميد گل، راجا ظفرالحق، پيرعبدالرحيم نقشبندی، قادر مگسی، عبدالحليم قاسمی سب شامل تهے، مگر 2008ء کے انتخابی معرکہ میں جذباتی سیاست کھیلی گئی جس کی بدولت پیپلز پارٹی ایک بار پھر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی 2008ء کے انتخابات میں کوئی نیا اتحاد نہیں بنا البتہ متحدہ مجلس عمل جو پہلے بنا ہوا تھا وہ بھی اپنی مقبولیت بر قرار نہیں رکھ سکا۔

انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے اتحادی حکومت بنائی جس میں ایم کیو ایم عوامی نیشنل پارٹی اور جے یو آئی (ف) شامل تھیں، سندھ ميں مسلسل پی پی پی اور ايم کيو ايم اتحاد برقرار رہا، یہ اتحادی حکومت اپنی غیر معیاری کار کردگی کی وجہ سے عوام میں کافی غیر مقبول رہی اس لیے اپنی حکومت بحال نہ رکھ سکی اور شکست سے دو چار ہو کر حکومت سے حزبِ اختلاف میں آ گئی ۔

سنہ 2010ء ميں سندھ پروگريسو نيشنلسٹ الائنس (سپنا) بنا۔

سنہ 2011ء ميں سندھ بچايو کميٹی بنی جس ميں فنکشنل ليگ، نواز ليگ، ايس يو پی، قومی عوامی تحريک، ايس ٹی پی، جسقم، جے يو آئی، جماعت اسلامی، اے جی پی، جيئے سندھ محاذ اور سندھ کے اکثر سرگرم وڈيرے اور ليڈر شامل تهے۔

اس کے بعد 2013ء کے الیکشن میں سندھ میں دس جماعتی اتحاد بنا، جس ميں فنکشنل ليگ، جے يو پی، سنی تحريک، نواز ليگ، ايس يو پی، قومی عوامی تحريک، ايس ٹی پی، جے يو آئی، جماعت اسلامی اور سندھ کے تمام سرگرم وڈيرے اور اليکٹيبلز شامل تهے۔ اتحاد دھاندليوں کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکا۔

LEAVE A REPLY