وزیراعلیٰ مراد علی شاہ سندھ اسمبلی میں کیوں پھٹ پڑے؟

0
98
تحریر: منصور مغیری سینئر صحافی

کہتے ہیں کہ گیدڑ جنگل میں موج مستیاں کرتے گھوم رہے تھے کہ اچانک شیر آگیا اور پھر شیر نے گیدڑ کو اپنا شکارکرنے کی کوشش شروع کی تو گیدڑ نے زوردار آواز لگائی کہ رک جاؤ، پہلے میری بات سنو اور پھر جو کرنا ہے کرلیجیے گا۔گیدڑ کی اس اپیل پر شیر رک گئے، گیدڑ نے انہیں کہا کہ دیکھو مجھے مت مارو، اگر تم نے آج مجھے ماردیا تو پھر سورج نہیں نگلے گا،گیدڑ کی بات سن کر شیر پریشان ہوگیا کہ گیدڑ میں آخر ایسی کیا گیدڑ سنگھی ہے کہ اس کو ماروں گا تو پھر سورج ہی نہیں نکلے گا!!! خیر شیر نے ان سے دریافت کیا کہ اس کہانی کے پیچھے کیا منطق ہے؟ گیدڑ نے انہیں کہا کہ بات سیدھی ہے کہ اگر تم نے مجھے ماردیا تو مجھے کیا پتا ہوگا کہ کل سورج نکلا بھی کہ نہیں!!!میں ہونگا ہی نہیں تو دیکھونگا کیسے کہ سورج نکلا بھی کہ نہیں۔

گذشتہ دنوں ہم نے اپنے ایکٹو وزیراعلیٰ جناب مراد علی شاہ کی اسمبلی میں انتہائی جذباتی تقریر سنی جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ اگر تم نے ہمیں پکڑ کر جیل میں ڈال دیا تو پھر حکومت کون کرے گا؟؟! پھر وہ منتیں بھی کرنے لگے کہ پلیز پلیز ایسا نہ کریں اور ہمارے مینڈیٹ کا خیال کریں اور ہمیں پکڑنے سے اجتناب کریں، انہوں نے پھر ذوالفقار بھٹو کی مثال دی کہ ان کو سولی پر لٹکایا، کیا ہوا وہ تو آج بھی زندہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

اب آتے ہیں شاہ صاحب کی پہلی بات پر کہ اگر ہم سب کو پکڑوگے یا جیل میں ڈالوگے تو پھر حکومت کون کریگا؟؟؟

وہ بالکل اسی گیدڑ کی طرح سمجھنے لگے ہیں کہ ان کے بغیر پھر سورج ہی نہیں نکلے گا، مطلب سندھ میں اہلیت کی اتنی کمی ہے کہ مراد شاہ کے بعد کوئی موزوں آدمی وزیراعلیٰ کے منصب پر بیٹھنے کے قابل ہی نہیں اور پھر صوبے کا بہت نقصان ہوگا!!! ان کے اندر کا خوف بالکل، باہر آگیا کیونکہ انہیں پتا ہے کہ بطور وزیر خزانہ انہوں نے جس طرح اومنی گروپ کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا ہے عدالتی جے آئی ٹی کو سارے ثبوت مل گئے ہیں اور سپریم کورٹ کے واضع فیصلے کے بعد نیب نے تفتیش کرنی ہے اور ان سے نہ صرف وزیراعلیٰ کی کرسی چھین جائے گی بلکہ جیل میں جانے کے بھی واضع امکان موجود ہیں جس وجہ سے وہ اسمبلی میں پھٹ پڑے کہ پلیز پلیز ایسا نہ کرو۔۔۔اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی آواز نے بھی انہیں مزید پریشان کیا کہ کرپٹ لوگوں کو تو سولی پر ضرور لٹکائیں گے۔

اب سائیں سرکار نے دوسری بات بھٹو صاحب کے حوالے سے کی کہ ان کو سولی پر چڑھایا، کیا ہوا ؟ وہ اب بھی زندہ ہے جس کو بھی سولی پر چڑھاؤ گے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جنہوں نے بھٹو صاحب کو پھانسی کے پھندے پر چڑھاکر یہ سوچا تھا کہ بس “گیم فنش” ہے تو وہ فلاسفی غلط ثابت ہوئی اور جنہوں نے یہ قدم اٹھایا وہ عبرتناک انجام تک پہنچے اور بھٹو صاحب آج بھی لاکھوں، کروڑوں لوگوں کے دل میں بستے ہیں اور جب تک دنیا ہے اس کی مزار پر میلہ سجا رہیگا لیکن مراد شاہ نے بھٹو کی مثال خود پر یہ دوسروں پر باالکل غلط دی۔میں دیانتداری سے پوچھتا ہوں کہ موجودہ پ پ پ کی لیڈرشپ میں ایک بھی ایسا شخص ہے جو کردار، ہمت جرات، ذہانت، ایڈمنسٹریشن، خودداری میں بھٹو ہو؟ ایک بھی ایسا ہے جسے غریب پرور اور ملک کا مخلص لیڈر کہا جائے اور جس کے دل اور دماغ میں اپنے ملک اور عوام کی خدمت کا جذبہ ایسے ہی ہو جیسے بھٹو صاحب کا تھا؟؟

سندھ پر بارہ سالوں سے حکمرانی کرنے والے تقریربازی میں آسمان تک چھلانگ لگانے میں دیر نہیں کرتے ،کوئی ہے جو یہ بتائے کہ دس سالوں میں سالانہ ترقیاتی پروگرام پر جو 1400 ارب روپے خرچ کیے وہ پیسا کہاں گیا؟؟؟ کیا اس سندھ کے علاوہ بھی کوئی سندھ ہے جہاں پر اتنی کثیر رقم خرچ ہوئی ہو اور ہم نے وہ سندھ نہ دیکھی ہو!!؟؟  اگر موجودہ سندھ میں اتنے پیسے خرچ ہوگئے ہیں تو ہمیں دکھائیں کہ صوبے میں ایک بھی ایسا اسکول یا اسپتال جس کو ہم ماڈل سمجھ لیں؟؟  ایک بھی کالج، یونیورسٹی، پبلک لائبریری، پارک، ضلع تو چھوڑیں یونین کونسل ہی دکھادیں چاہے وہ مراد شاہ کے حلقے کا ہو جسے ہم ماڈل تصور کریں، زراعت، آبپاشی، لائیوسٹاک میں اربوں روپے لگائے کیا ترقی، ہوئی، قوم کو دکھایا جائے تو بہت مہربانی ہوگی۔

سرکاری عہدہ قدرت کی طرف سے ذمہ داری کے ساتھ ایک امانت بھی ہوتا ہے، کیا اس امانت کو اومنی گروپ اور اپنی ذات کے لیے استعمال کرنا کیا دیانتداری کے زمرے میں آتا ہے؟؟  نیب کچھ کرے یا نہ لیکن اللہ کی عدالت سب سے بڑی عدالت ہے جس نے جتنی بڑی کرسی اور زیادہ پاور دیا تو کیا اس کا حساب تو اتنا ہی ہوگا نہ؟؟  اور میرا ایمان ہے کہ آخرت میں جو حساب ہونا ہے اس سے قبل ادھر دنیا میں بھی حساب پہلے دینا پڑتا ہے۔

LEAVE A REPLY