وزیرخزانہ اسدعمر نےایوان میں سپلیمنٹری فنانس بل پیش کردیا

0
217

وزیرخزانہ اسدعمرایوان میں سپلیمنٹری فنانس بل پیش کردیا  ۔

قومی اسمبلی میں سپلیمنٹری فنانس بل پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ گزشتہ حکومت کاپیش کیاگیاچھٹابجٹ حقائق کےبرعکس تھا،گزشتہ حکومت کےبجٹ پرچلتےتومعاشی لحاظ سےاوربھی نقصان ہوتا ۔گزشتہ حکومت نےچھٹابجٹ پیش کیااس لیےسپلیمنٹری بل پیش کررہےہیں۔

اسدعمر نے کہاکہ کچھ کرسکیں یانہ کرسکیں کم ازکم قوم سےسچ توبول ہی سکتےہیں،معیشت کااستحکام،روزگاراوربرآمدات میں اضافہ ہماری ترجیحات ہیں،ملک پربیرونی قرضے95ارب ڈالرتک پہنچ چکےہیں،وزیرخزانہ اسدعمرملک کوقرضوں کےبوجھ سےنکالنابھی ہماری ترجیح ہے،ارکان اسمبلی کی بجٹ تجاویزپرغورکیاجائےگا،مسلم لیگ ن کےبجٹ کےمطابق انہیں8.2بجٹ خسارہ ملاتھا،بجلی،گیس کاخسارہ جوڑیں تویہ خسارہ8.2فیصدپرپہنچ جاتاہے ۔

گزشتہ مالی مالیاتی خسارہ6.6فیصدتک پہنچ گیاتھا،معاشی طورپرملک کومشکل حالات کاسامناہے،توانائی کےشعبےمیں گزشتہ سال ساڑھے4سواارب کاخسارہ ہوا،گیس کےشعبےمیں100ارب روپےسےزائدکےخسارےکاسامناہے،ملکی زرمبادلہ کےذخائرخطرناک حدتک گرچکےہیں،چند ماہ میں ڈالرکےمقابلےمیں روپےکی قدرمیں20روپےکمی آئی ۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا تھا، ہمارے خیال میں یہ متوسط طبقے کے ساتھ ظلم ہے، روپے کی قدر میں کمی سے پیٹرول مزید 20روپے فی لٹر مہنگا مل سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ 1800 سی سی سے اوپر گاڑیوں پر ڈیوٹی 20 فیصد کردی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال کا ترقیاتی بجٹ کم کرکے 725 ارب روپے کردیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ اسد عمر نے کم سے کم پنشن 10 ہزار روپے کرنے ،لگژری آئٹم پر اضافی ٹیکس عائد کرنے، مہنگے موبائل فونز پر ڈیوٹی اور سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا اعلان کیا۔

اسد عمر نے کہا کہ مشکل حالات میں مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، بہتری صرف آئی ایم ایف پروگرام سے نہیں آئے گی، صنعتوں کی بہتری، روزگار کی فراہمی اور ایکسپورٹ بڑھنے سے معیشت بہتر ہوگی، ایکسپورٹ انڈسٹری کو 5 ارب روپے کا ریلیف دے رہے ہیں۔

سپلیمنڑی فنانس بل  کے نکات

4لاکھ روپےسالانہ تک آمدن پرٹیکس نہیں ہوگا ۔

4لاکھ سے8لاکھ روپےسالانہ آمدن پرایک ہزارٹیکس ہوگا۔

8سے12لاکھ روپےسالانہ آمدن پر2ہزارروپےٹیکس ہوگا۔

12سے24لاکھ روپےسالانہ آمدن پر5فیصدٹیکس ہوگا۔

24سے30لاکھ روپےسالانہ آمدن پر60ہزارفکسڈاور15فیصدٹیکس ہوگا ۔

30سے40لاکھ روپےآمدن پرڈیڑھ لاکھ روپےفکسڈٹیکس ہوگا۔

30سے40لاکھ روپےآمدپرفکسڈ کےعلاوہ20فیصدٹیکس دیناہوگا ۔

40سے50لاکھ روپےآمدن پرساڑھے3لاکھ روپےفکسڈٹیکس ہوگا۔

40سے50لاکھ روپےآمدن پر25فیصدٹیکس ہوگا۔

وزیرخزانہ اسدعمرکی پریس کانفرنس

بجٹ پیش کرنے کے بعد وزیرخزانہ اسدعمرنےپریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نےآمدن سےزیادہ اوراخراجات کم دکھائے،گزشتہ سال حکومت نےاسٹیٹ بینک سے1200ارب روپےقرضہ لیا،زرمبادلہ کےذخائرتیزی سےگرتےجارہےہیں ۔

وزیرخزانہ اسدعمر نے کہاکہ مالی سال2018میں661ارب روپےکاترقیاتی بجٹ تھا،رواں سال ترقیاتی بجٹ725ارب روپےکردیاگیاہے۔

انھوں نے مزید کہاکہ  دیامراوربھاشاڈیمزکو6سال میں تعمیرکیاجائےگا،حکمرانی بہترکرنےکےلیےاقدامات کررہےہیں،ٹیکس نہ دینےوالوں کوٹیکس نیٹ میں لانےکافیصلہ کیاہے۔

سدعمر نے کہاکہ  ایڈجسٹمنٹ کا100فیصدبوجھ صاحب حیثیت لوگوں پرڈالاہے،ایکسپورٹ نہیں بڑھ رہیں،امپورٹس بڑھتی جارہی ہیں،پاکستان کیلئےکرائسزکی صورتحال بیرونی سطح پرہے،گردشی قرضہ1200ارب تک پہنچ چکاہے،وفاق کےریونیومیں350ارب کی کمی متوقع ہے۔

انھوں نے کہاکہ  تمام اقدامات کےنتائج آنےمیں تھوڑاوقت لگےگا،قرض واپسی کیلئےنہیں قرضوں پرسوددینےکیلئےقرضےلےرہےہیں،معاشی صورتحال یہ ہےکہ ہماری درآمدات زیادہ،برآمدات کم ہے،جب تک کریک ڈاؤن نہیں کریں گےہدف حاصل نہیں کرسکتے۔

اسدعمر  نے کہا کہ 2لاکھ تک سیلری ہولڈرپرٹیکس میں کوئی ردودبدل نہیں کیاگیا،زرمبادلہ کےذخائربڑھانےکیلئےبرآمدکنندگان کواپنےپاؤں پرکھڑاکرناہوگا۔

 

LEAVE A REPLY