ایک معاہدہ عوام کے ساتھ بھی ہونا چاہیے

0
188
شوکت زرداری ایک پاکستانی صحافی، تجزیہ نگار اور نیوز اینکر ہیں

شیخوپورہ کے ایک نواحی گائوں میں آسیہ پروین نامی ایک عورت پر توہین رسالتؐ کا الزام لگتا ہے، دودھ میں پانی ملانے والے سے لیکر چوری کی بجلی استعمال کرنے والے ہر نیک مسلمان کا جذبہ ایمانی جاگ جاتا ہے اور ہر کوئی عین اپنے اپنے اسلام کے مطابق اس ملعونہ کو موت کے گھاٹ اتارنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔

سال 2009 سے 2018 کے درمیان اسی کیس کی وجہ سے پاکستان کی سب سے زیادہ لبرل اور سیکیولر سمجھی جانے والی جماعت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر شہید کردیے جاتے ہیں اور انہیں شہید کرنے والا انکا اپنا ہی گارڈ سنی سنائی بات پر سلمان تاثیر کو گستاخِ رسولؐ سمجھ کر اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے اٹھائے جانے والے حلف کے بلکل خلاف اسے ہی قتل کردینے والے ممتاز قادری کو پاکستان کے اسی آئین کے مطابق سزائے موت دی جاتی ہے۔

قرآن میں صاف احکامات ہیں کہ کس طرح بغیر تصدیق کے کوئی فیصلہ نہ دو تاکہ تم ظلم کرنے سے بچ جائو۔ مگر یہاں تو کوئی ان احکامات پر کان دھرنے کو تیار نہیں۔ بس ہر کوئی نعوذ باللہ تسکین روحانی کے لیے ایک باعزت بری ہونے والی خاتون کو موت کی سزا دینے کے حق میں ہے۔

اب سزا دینا عدالت کا کام ہے اور احتجاج کرنا ان جماعتوں کا جو کہ عدالت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کررہی ہیں۔

پاکستان میں شاید یہ ہی ایک واحد طبقہ ہے جسے قومی سلامتی کے نام پر دہائیاں پہلے تیار کیا گیا ھے اور اس طبقے کی پاکستان کی سیاست میں اہم پلیئر کے طور پر حکومتیں بنانے اور گرانے کی کہانیاں تاریخ کے کئی صفحات پر آج بھی محفوظ ہیں۔

آسیہ بیبی کیس کا فیصلہ آتے ہی ملک کا پہیہ رک جاتا ھے، ریاست غیر ریاستی ہاتھوں میں آجاتی ہے پھر جلائو گھیرائو، دکانیں بند کروانا ریاستی رٹ کے سامنے علم بغاوت بلند کرنا اور ریاستی اداروں کے حوالے سے غلیظ زبان کا استعمال، ججز کے قتل کے فتوے دینے والوں کے ساتھ معاہدے کا طے پاجانا یقیناً پاکستان ان کروڑوں شہریوں کے لیے سوالیہ نشان ہے جو نہ صرف سپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے رہے مگر ساتھ ساتھ اس تمام ھنگامہ آرائی کے متاثر بھی بنے۔

سرکار نے وسیع تر قومی مفاد میں پرامن شہریوں کی املاک کو نقصان پھنچانے والوں سے معاہدہ کیا ہے اس میں عوام کو صرف سوری کہنا کافی نہیں آخر اس نقصان کا ازالہ کون کرے گا۔

عوام چونکہ ان شرپسند عناصر سے تعداد میں زیادہ ہے اس لیے ان کے ساتھ بھی ایک سرکاری معاہدہ ھونا چاہیے جس کے تحت عوام کی جان ومال کے تحفظ کی ذمیداری سرکار پر یقینی ہو اور عوام کے نقصان کا ازالہ بھی سرکار ہی کرے کیونکہ عوام کا نقصان سرکار کی طرف سے شرپسندوں کو دی گئی ڈھیل کا نتیجہ ہے۔

تحریر: شوکت زرداری

LEAVE A REPLY