ڈپٹی ایم ڈی واٹر بورڈ اسداللہ خان کی بھرتی جعل سازی کے ذریعے ہونے کا انکشاف

0
882

کراچی: واٹر بورڈ کے ڈپٹی ایم ڈی(ٹیکنیکل سروسز) اسداللہ خان نے 1987 میں جعل سازی کے ذریعے نوکری حاصل کی اور محکمے کے اعلیٰ عملداروں اور سابق وزراء کے دستِ شفقت کی وجہ سے ترقی کی منازل طے کرتے چلے گئے۔

سندھ پوسٹ کو ملنے والی اہم دستاویزات کے مطابق  اسداللہ خان نے نومبر 1986 میں واٹر بورڈ کی طرف سے اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر کی آسامی پر غیر مکمل کاغذات جمع کروائے اور جیکب آباد کے ڈومیسائل پر خلافِ ضابطہ بھرتی ہوئے۔

دستاویزات کے مطابق اسداللہ خان بطور اسسٹنٹ انجینئر (مکینیکل سروسز) بھرتی ہوئے مگر سپریم کورٹ کے احکامات کو پسِ پشت ڈال کرانہیں ڈپٹی ایم ڈی(ٹیکنیکل سروسز) واٹر بورڈ تعینات کردیا گیا۔

اسداللہ خان نے پہلے ہی دن سےحکومت کو اندھیرے میں رکھا اور ساتھ ساتھ محکمے کے لوگوں کے ساتھ ملی بھگت کرکےسینیارٹی لِسٹ میں بھی خلافِ ضابطہ جعل سازی کے ذریعے ہیر پھیر کروانے میں کامیاب ہوئے۔

دو ہزار صفحات سے زائد پر مبنی دستاویزات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ڈپٹی ایم ڈی کا پروموشن  18 سے 19 گریڈ  اور پھر 19 سے 20 گریڈ میں تک پہنچنا بھی جعل سازی کے زمرے میں آتا ہے۔

دستاویزات کے مطابق اسداللہ خان صاحب دوہری شہریت کے بھی حامل ہیں جو کہ خود میں ایک سوالیہ نشان ہے۔

اسداللہ خان نے ناصرف جعل سازی اور دھوکہ دہی کے  ذریعے خلافِ ضابطہ ترقی حاصل کی بلکہ اسکے ساتھ ساتھ ادارے کو اربوں روپے کا چونا بھی لگایا۔

قانون کی رو سےٹیکنیکل سروسز کے ایم ڈی کو سول انجینئر ہونا چاہیئے لیکن اسد اللہ خان مکینیکل انجینئر  ہیں۔

متصدقہ ذرائع سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ اسداللہ خان نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے قائم کردہ واٹر کمیشن کے سامنےٹریٹمنٹ پلانٹ کے حوالے سے بھی غلط بیانی کی۔

سندھ پوسٹ نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری کو مدِّ نظر رکھتے ہوئےایم ڈی واٹر بورڈ خالد محمود  شیخ اور وزیرِ بلدیات سندھ سعید غنی سے بھی مؤقف لینے کی کوشش کی لیکن دونوں طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

LEAVE A REPLY