سندھ یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل: اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ نے وائس چانسلر سمیت 25 افراد کو نامزد کردیا

0
331

کراچی: سندھ کے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈپارٹمنٹ نے سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر فتح محمد برفت کی مالی امور میں خورد برد اور بے ضابطگیوں کے معاملے کی تحقیقات مکمل کرلیں۔

سندھ پوسٹ کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ سندھ نے یونیورسٹی کے فنڈز میں 738 ملین روپوں کی خطیر رقم کے خورد برد کا انکشاف کیا۔

رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی نے ٹرانسپورٹ کے ٹھیکے کی مد میں ایک نجی بس کمپنی کو 450 ملین روپوں کا غیر قانونی ٹھیکہ دیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہں جامعہ کی انتظامیہ نے یونیورسٹی فنڈ میں سے 60 لاکھ روپوں کی ٹویوٹا فارچیونر گاڑی بھی خریدی۔

پٹرول کی خریداری میں بھی 120 ملین روپوں کی خورد برد کا انکشاف ہوا۔

تحقیقاتی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ایک نجی انشورنس کمپنی کو بھی غیر قانونی طریقوں سے 1۔1 ملین روپوں کی خطیر رقم دی گئی، صفدر شاہ نامی ایک آدمی کو بھی 2 ملین روپوں کی رقم ناجائز طریقے سے فیکلٹی ڈیویلپمنٹ فنڈ کے نام پر دی گئی۔

 ڈیویلپنٹ فنڈز میں بھی 320 ملین روپوں کے غبن کا انکشاف بھی رپورٹ میں کیا گیا۔ مختلف الاؤنسز اور تنخواہوں کی مد میں بھی کرپشن کی گئی۔

مزید پڑھیئے: جامعہ سندھ کرپشن اسکینڈل: اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے تحقیقات مکمل کرلیں

مختلف الاؤنسز کی مد میں بھی 10 ملین روپوں کی ہیرا پھیری کی گئی۔

5 ملین سے زائد کی رقم بیرونِ ملک دوروں پر خرچ کی گئی۔ بیرونِ ملک کیے جانے والے دوروں کی رقم بھی یونیورسٹی فنڈز سے لی گئی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 0۔8 ملین روپوں کی رقم بلون کی مد میں غصب کی گئی، مختلف لیبز کا سامان خریدنے کی مد میں بھی 5۔5 ملین کا چونا یونیورسٹی فنڈ کو لگایا گیا۔

سارے کرپشن اسکینڈل میں وائس چانسلر فتح محمد برفت اور جامعہ کے ٹینڈر کنوینر سرفراز سولنگی کو بڑے ملزم کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

یونیورسٹی کے اساتذہ میں سے عمیر ابڑو، فہیم مغل، مسعود جمالی، شفیع محمد میمن اور 25 دوسرے لوگوں کو بھی فنڈز کی ہیرا پھیری میں ملوث پایا گیا ہے۔

اکتالیس کمپنیوں کو غیر قانونی ٹھیکے دیئے گئے، وائس چانسلر نے متعدد غیر قانونی ملازمین بھی گریڈ 1 سے لے کر 22 تک بھرتی کیے۔ غیر قانونی بھرتی ہونے والوں میں 30 لیب اسسٹنٹ بھی شامل ہیں۔

یونیورسٹی سے ریٹائرڈ ملازمین کو دوبارہ بھرتی کیا گیا اور یونیورسٹی کی زمین پر غیر قانونی گھر بھی تعمیر کیے گئے۔

مزید پڑھیئے: سندھ یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل: محکمہ اینٹی کرپشن سندھ نے مطلوبہ رکارڈ تحویل میں لے لیا

برفت نے غیر قانونی طریقے سے ایک لگژری گاڑی بھی یونیورسٹی کے فنڈز میں سے خریدی۔ یہ سارے معاملات اینٹی کرپشن ایکٹ کے زمرے میں آتے ہیں۔

واضح رہے کہ جامعہ سندھ کے وائس چانسلر فتح محمد برفت کے اوپر اختیارات کے ناجائز استعمال اور جامعہ کے فنڈز میں خورد برد کا الزام لگایا گیا تھا۔

الزامات کی خبر سندھ پوسٹ کے پلیٹ فارم سے پھیلنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سندھ کو ہدایات جاری کی تھیں کہ معاملے کی تفصیلی جاچ کر کے رپورٹ جمع کروائی جائے۔

جسکے بعد اینٹی کرپشن دیپارٹمنٹ نےجامعہ سندھ یونیورسٹی پر چھاپہ مار کر ریکارڈ اپنے تحویل میں لے لیا تھا۔

LEAVE A REPLY