کراچی کا خوبصورت ترین ساحل، مبارک ولیج

0
162

میں نے اکثر لوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ آپ کراچی سے واپس تو جاسکتے ہیں لیکن کراچی شہر کی رنگینیوں کو اپنے دل نکال باہر نہیں کر سکتے ، اور یہ کراچی کی شان او ر خوبصورتی ہے۔  ویسے تو کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ کراچی کو منی پاکستان بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ یہاں ہر صوبے یعنی  پنجاب ، سندھ ، کےپی کے، کشمیری اوربلوچستان کے شہری بستے  ہیں۔

کراچی ساحل پر ہونے کے باعث اس کی اہمیت بانسبتاً باقی شہروں سے بڑھ جاتی ہے۔اس کو روشنیوں کاشہر ، شہروں کی دلہن کہا جاتا ہے اور سب سےمشہور شہرِقائد ہے کیونکہ بانیِ پاکستان کی جائےِ پیدائش یہی شہر ہے۔ کراچی میں بےشمار تفریحی مقامات ہیں لیکن ہر جگہ ایک دوسرے سے فاصلے پر واقع ہے۔یہ مقامات قابلِ ستائش ہیں اور تفریح کا بہترین زریعہ بھی۔

کراچی کی سب سے قدیم اور پرانی ساحلی بستی مبارک ولیج کی آبادی تقریباً چارہزارنفوس پرمشتمل ہے اوراس کے مکین پاکستان کے سب سے ترقی یافتہ شہر کے پڑوس میں آباد ہونے کے باوجود زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔یہاں کے باسیوں کی  زندگی انتہائی مشکل ہے ، مقامی آبادی کے گھر کچے بنے ہوئے ہیں اور سیلاب یا طوفانی ہواوٗں کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے، یہ بستی زندگی کا بنیادی جزو سمجھی جانے والی سہولیت یعنی بجلی اور پانی سے یکسرمحروم ہے اور سمندر کنارے آبادمقامی افراد کی ضروریاتِ زندگی کا دارو مدار شہر سے آنے والے پانی کے ٹینکر (جوانتہائی مہنگا ہے) ہیں اوردوردرازواقع گنتی کے چند میٹھے پانی کےکنووں پرہے۔

یہاں کے باسیوں کی اکثریت کا روزگار ماہی گیری سے جڑا ہے مگر کسی اور جگہ کے ماہی گیروں کے مقابلے میں مبارک ولیج کے رہائشی فشنگ نیٹ کی بجائے اپنی آمدنی اسپورٹس فشنگ کے ذریعے کماتے ہیں، وہ شکار کے لیے کئی طرح کی تیکنیکس استعمال کرتے ہیں جیسے فشنگ راڈز اور ہیڈ لائنز وغیرہ۔ بیشتر ماہی گیروں کے روزگار کا انحصار چھوٹی کشتیوں پر ہے جنھیں روایتی طریقے سے تیار کیا جاتا ہے اور وہ طوفانی موسم میں سفر کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں اور ان سے مضبوط کرنٹ بھی برداشت نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں یہ ماہی گیر مون سون کے دوران اپنی سرگرمیاں معطل کردیتے ہیں اور اپنے علاقے کے قریب واقع گراﺅنڈ میں فٹبال میچز کھیل کر اپنا وقت گزارنے لگتے ہیں۔

لیکن بدقسمتی سے کراچی کے حسین ساحل مبارک ولیج کی خوبصورتی ماند پڑگئی۔ ساحل پر پُراسرار طور پرآنے والے  تیل کی وجہ تو اب تک معلوم نہ ہوسکی ۔کراچی میں مبارک ولیج کا خوبصورت ساحل بدبودار اور سیاہ خام تیل کی وجہ سے شدید آلودگی کی لپیٹ میں ہے۔ خام تیل  سے جہاں آبی حیات کو خطرات لاحق  ہیں ویہی ماہی گیروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ مبارک ولیج پر تیل آنے کی وجہ آبی حیات  کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں اور ساحل پر صفائی ستھرائی کا کام جاری ہے۔

تحریر: محمد اُسامہ شاہد

LEAVE A REPLY