پریشان لوگ۔۔۔

0
1326

آج میں دھابیجی میں ہمارے دوست اور پرانے سیاسی ورکر ہوت خان کلمتی کی زوجہ کے وفات پر فاتح خوانی  کے لئے اس کے گاؤں گیا، ہوت خان کے چھوٹے سے اوطاق میں لوگ مسلسل دعا کے لئے آرھے تھے،گوٹھ تک پہنچے کا راستہ ٹوٹا پھوٹا تھا، میں نے ہوت خان سے پوچھا کہ، ضلع کونسل ٹھٹھہ میں سب آپ کے دوست ممبر ہیں۔

 چئیرمین بھی آپ کا اور میرا دوست ہے اب اس ایک کلو میٹر سڑک کو پکا ہونا چائیے ہوت خان مسکرا کر خاموش رھے، اس کی خاموشی میں صدیوں کا درد میں نے محسوس کیا،پچاس سالوں سے وہ یہاں آباد ہیں، پچاس سالوں میں یہ سڑک نہیں بن سکی اب کیا بنے گی، اس کی خاموشی کا یہ ہی جواب تھا۔

کچھ دیر خاموش رھنے کے بعد ہوت خان نے  مڑ کر میری طرف دیکھا،اور جو بات کہی وہ ایک درد لیکر دل میں اتر گئی،اس نے کہا، سڑک اپنی جگہ اب ہم یہاں کے لوگ دوسری بار اپنے علاقوں سے ترقی کے نام پر ہجرت پر مجبور ہونگے۔

میں نے حیرانی اس کے طرف دیکھا،اس نے میری حیرانگی کو  سمجھتے ھوئے ،اپنے اوطاق کے دائیں جانب لگے پتھروں کے طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ حالیہ میں بحریا ٹاؤن انتظامیہ نے لگائے ہیں ،یہ پوری زمیں ریل کے پٹری سے نیشنل ہائی وے پار سمندر تک بحریہ ٹاؤن کو دی گئی ہے۔

جس میں ۱۷ گوٹھ اور تین تاریخی قبرستان آتے ہیں،یہ سب لوگ پریشان ہیں ،یہ گوٹھ اور لوگ اس وقت سے آباد جب بھنبھور اپنے عروج پر تھا اور اب نئی بستیوں کے نام پر قدیمی گوٹھوں اور لوگوں کو بے دخل کرنا کہاں کا انصاف ہے؟،بحریا ٹاؤن ہاؤسنگ اسکیم سے بھنبھور کے قدیمی آثار کو بھی شدید خطرہ لاحق ہوگا۔

یہاں پر ہمارے کھیت تھے ،ہم زراعت کرتے تھے،پھر ترقی کا نام پر یہ زمین ہم  سے  حاصل کی گئی اور یہ تمام زمین”زیبسٹ”کے نام پر لی گئی، جو ۲۰ہزارایکڑ زمین تھی، بہت سارے گوٹھ والوں کو ہجرت کرنا پڑا، لیکن پر موجودہ پی پی پی حکومت نے “زیبسٹ” کی زمین کو ہاؤسنگ اسکیموں اور فیکٹری مالکان کو بیچنی شروع کی، اب باقی زمین بحریا ٹاؤن کو دی گئی ہے، بحریہ ٹاؤن کو پانچ ہزار ایکڑ زمین دی گئی ہے”۔ پورے ماحول ایک لمحے کے لئے اداسی چھا گئی۔

ہوت خان نے دوبارہ بولنا شروع کیا”، یہ پورا علاقہ گھارو نان سروے دیھ ہے، کورٹ نے الاٹمنٹ پر پابندی لگائی ہے، جب ہم گھر بناتے ہیں تو پولیس آکر کورٹ کا نام لیکر کام بند کراتی ہے، لیکن ہمارے اردگرد فیکٹریاں بن رہی ہیں، غیر قانونی ہائوسنگ اسکیمیں بن رہے ہیں انتظامیہ خاموش ہے، قانون کی پکڑ صرف غریبوں کے لئے ہے “۔

سوچ میں پڑھ گیا ہوں کہ “کراچی،جامشورو،نواب شاھ اور دھابیجی ٹھٹھہ کی زمینیں  بحریہ (بھیڑیا) ٹاؤن کے حوالے کی جا رہی ہے، کسی نے سچ کہا ہے کہ پوری سندھ لیز پر ملک ریاض کے حوالے کی گئی ہے،” زیبسٹ ” والے اور اس دور میں اس کی وکالت کرنے والے اور ترقی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے آج کہاں ہیں ؟یہ ایک ھوت خان المیہ نہیں ھے، لاکھوں لوگوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

اگر یہ زمین “زیبسٹ”کے نام پر لوگوں سے حاصل کی گئی ہے تو پھر کس قانون کے تحت یہ زمین بحریا ٹاؤن اور دوسرے بلڈرز مافیا کو دی جا رہی ہے؟ اگر یہ زمین”زیبسٹ “کو درکار نہیں تو واپس ان مالکان کو دی جائے جن کے یہاں کھیت، گاؤں اور چراگاہیں تھیں،اس کے علاوہ بحریا کو کس قانون کے تحت گوٹھ،قدیمی قبرستان اور آثارِقدیمہ  سائیٹس الاٹ کیے جا رہے ہیں؟ سیاسی لیڈر، منتخب نمائندے، سماجی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کی خاموشی بھی کئی سوالوں کو جنم دے رہی ہے۔

یہ صرف بحریا ٹاؤن نہیں اس پہلے اسٹیل مل پورٹ قاسم ،ایکسپورٹ پروسیسنگ زون  کے لئے ہزاروں لوگوں کو بیدخل کیا گیا، اور گھگھر سے کیٹی بندر تک سی پیک کے نام پر ایک بہت بڑی تباہی آرہی ہے، جس سے لاکھوں لوگ بے گھر ہونگے وہ اپنی زمینوں اور روزگار سے بے دخل ہونگے، ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرح ایک نئی نظر نہ آنے والے غلامی کے تیار ہو جائیں۔

ہم سب  کو اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے۔

خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا

تحریر: گل حسن کلمتی

LEAVE A REPLY