کیا کررہی ہے سندھ پولیس؟

0
208

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ امن و امان کے اہم اجلاس میں سابق آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ سے سوال کرتے ہیں، کیا کررہی ہے آپ کی پولیس ؟ گزشتہ روز امن و امان کے ایک اور اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پھر آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام اور ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ سے سوال کیا ہے کیا کررہی ہے پولیس اور برہمی کا اظہار بھی کیا ۔ پولیس تو اُس وقت بھی وہی کرتی تھی جو آج کررہی ہے بس چہرے تبدیل ہوچکے ہیں ۔ تھانوں کی سطح پر انٹیلی جنس نیٹ ورک تباہ ہوچکا ہے ، چند تھانوں کو چھوڑ کر تھانیدار ہفتہ وار بھتہ وصولی میں مصروف ہیں ، کراچی آپریشن شروع ہونے کے بعد تھانوں کی سطح پر کام کرنے والے (بیٹر) کمین گاہوں میں چھپ گئے تھے لیکن اب وہ دوبارہ دندناتے پھر رہے ہیں ۔

سائوتھ زون میں چینی قونصل خانے پر حملہ ہوگیا ، ایم کیو ایم کے ایم این اے علی رضا عابدی کا قتل ہوگیا ، سابق گورنر سندھ زبیر عمر پر حملے کی کوشش کی گئی لیکن اس زون کے ایک اعلیٰ افسر نے ظفری نامی بیٹر کی ذمہ داری لگائی ہے جس نے سائوتھ زون کے 107 سے زائد گیسٹ ہائوس سے 50 ہزار روپے فی گیسٹ ہائوس وصول کرنا شروع کردیا ہے ، تخمینہ لگایا جائے تو یہ رقم 53 لاکھ 50 ہزار بنتی ہے یہی نہیں بلکہ آغا نامی ایک پرائیویٹ بیٹر نے شیشہ بار چلانے کا ڈھائی لاکھ روپے فکس کردیا ہے یہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ آئی فون ایکس میکس بھی طلب کرنا شروع کردیا ہے ، سائوتھ زون میں تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں آئس اور کرسٹل کا استعمال کررہے ہیں ، نوجوان نسل تباہ ہوجائے پولیس کو فرق نہیں پڑتا بس جیب گرم رہنی چاہئے پوسٹنگ آج ہے کل چلی گئی تو کیا ہوگا؟یہ وہ افسر ہیں جب ایسٹ میں تعینات تھے تو شہری اغوا ہوتے تھے اور پھر رقم دے کر واپس بھی آجاتے تھے ۔

ضلع ملیر نے چینی قونصل خانے کے پانچ سہولت کاروں کی گرفتاری ظاہر کردی، یہ گرفتاری “تحفے” کی شکل میں دی گئی خیر قائد آباد میں بم دھماکے کے ملزمان کا اب تک کچھ سراغ نہ لگ سکا، یہ چیمپئن اعلیٰ افسر اینٹی وائلنٹ کرائم سیل سے ایک تحفہ لے کر آئے ہیں جنہیں ماضی میں سی آئی ڈی (جس کا نام تبدیل کرکے سی ٹی ڈی) کردیا گیا ہے سے ملیر ضلع میں پوسٹنگ دی گئی ہے ان افسر پر الزام تھا انہوں نے سی ٹی ڈی کی عمارت کے پڑوس میں جوئے کا منظم اڈہ آباد کر رکھا تھا جنہیں پھر اہم عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے اب یہ دبنگ افسر سادہ لباس اہلکاروں کی نفری لے کر دندناتے پھرتے ہیں اور ہائی وے کے ہوٹلوں سے پچاس ہزار لاکھ روپے بھی وصول کررہے ہیں ، ملیر میں بدنام زمانہ وسیم بیٹر کی ٹیم کے کچھ کردار اپنا منشیات کا منظم سیٹ اپ جمانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔

کورنگی میں تعینات اعلیٰ پولیس افسر کچھ بہتر ہیں ، جن کے دو قریبی افسران ضلع چلانے کی کوششوں میں مصروف ہیں ، ان اعلیٰ افسر کو عوامی کالونی کے تھانیدار نے تازہ تازہ بے قوف بنایا ہے لیکن ایسے افسران کے خلاف کارروائی اب تک نہ ہوسکی، کورنگی عوامی کالونی سے شراب کے اسٹور سے دو افراد شراب لے کر نکلے تو پولیس نے روکنے کی کوشش کی نہ رکنے پر فائرنگ کردی گئی جس کے نتیجے میں میاں ،بیوی زخمی ہوگئے ، پہلے تو اعلیٰ افسر کو بتایا گیا کہ پولیس اہلکاروں کا اسلحہ چھینا گیا پھر پھینک دیا گیا لیکن جب حقائق سے پردہ چاک ہوا تو کہانی کچھ اور نکلی ، یہ تھانیدار اسپیشل پارٹی چلانے کی مہارت بھی رکھتے ہیں اس فائرنگ کے واقعے میں دو اہم کرداروں کو بچالیا گیا۔

وزیراعلیٰ سندھ اجلاس میں برہمی کا اظہار کرنے سے کچھ نہیں ہوگا اگر امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنا ہے تو پھر تھانیداروں کی تعیناتی ، اعلیٰ پولیس افسران کے ماضی کو دیکھنا ہوگا ورنہ تو پھر آپ برہمی کا اظہار کرتے رہیں اور ہم مسکراتے رہیں گے ۔

تحریر: طلحہٰ عبیدی

LEAVE A REPLY