طلبہ یونین کی بحالی اب ناگزیر

0
578
تحریر: موسیٰ غنی

طلبہ یونین کی بحالی طلبہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے طلبہ یونین کی بحالی نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم کئی مسائل سے دو چارہیں اور آئے دن سیاسی جھگڑوں کی وجہ سے طلبہ عدم اطمینان کا شکار ہیں۔

طلبہ یونین کی سرگرمیوں میں جو اہم غیر نصابی سرگرمیاں شامل تھیں ان میں مختلف مسائل پر بحث، شاعری سیشن وغیرہ ان سرگرمیوں سے طلب علم لطف اندوز بھی ہوتے تھے اور ان کا ذہن بھی ترو تازہ ہوجاتا تھا اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ بھی مختلف شعبوں میں مہارت حاصل کر لیتے تھے۔

طلبہ یونین کے انتخابات سے طلبہ کے اندر جمہوری روایات سے آگہی پیدا ہوتی تھی اور جمہوری عمل کو سیکھنے کا بہترین موقع بھی ملتا تھا۔

طلبہ یونین کی مختلف سرگرمیوں کی وجہ سے طلبہ کو اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا موقع بھی فراہم کیاجاتا تھا اور ا نکے اندر دوسروں کی بات سننے اور اکثریت کے فیصلے پر عمل کرنے اور ان کے ساتھ کام کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا تھا۔ یہ سب طلبہ یونین کی بدولت ہی ممکن ہے۔ طلبہ یونین کی جانب سے طالب علموں کو متحرک اور قومی سطح پر ملوث تحریکوں اور بین الاقوامی سطح پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا جاتا تھا۔

سرکاری کالجوں اور جامعات میں سیاسی مداخلت ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو بھاری فیسوں کے عیوض نجی کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلہ دلوانے پر مجبور ہیں کیونکہ سرکاری کالجز میں صرف چند ایسے کالج ہیں جن میں پڑھائی ہوتی ہے اکثریت ان کالجز کی ہے جہاں طالب علموں کی غیر حاضری کی وجہ سے تدریسی عمل نہیں ہوتا۔

کیونکہ طالب علم جو کسی سیاسی جماعت سے وابسطہ نہیں ہے اس کو ڈرو خوف ہوتا ہے کہ ان سیاسی جماعتوں سے جو طالب علموں کو اپنی طرف راغب کر تی ہیں اور اگر طالب علم ان کی جماعت میں شمولیت اختیار نہ کرے تو وہ مختلف قسم کے مسائل سے دو چار ہوجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ والدین نجی تعلیمی اداروں میں اپنے بچوں کو بھاری فیسوں کے عیوض داخلہ دلوارہے ہیں جس کی وجہ سے نجی تعلیمی ادارے منافع بخش کاروبار بن گئے ہیں۔

والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ سازگار ماحول میں تعلیم حاصل کرے۔ جہاں لڑائی جھگڑے یا کوئی خوف کی فضاقائم نہ ہو۔ ہمارے سرکاری تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے لڑائی جھگڑے اور خوف کی فضا قائم ہے۔

جامعات اور کالجز میں تنظیمی کاروائیاں عروج پر ہونے کی وجہ سے فرقہ واریت کی جڑیں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور اس کا شکار کوئی عام انسان نہیں بلکہ طالب علم ہو رہے ہیں جو اس ملک کے مستقبل کا معمار ہیں۔ اسی لیئے سرکاری تعلیمی اداروں سے تعصب اور فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب طلبہ یونین بحال ہو تا کہ تمام طالب علم ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں خواہ ان کی کوئی بھی زبان ہو یا وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھتے ہوں وہ ایک پاکستانی کہ نام سے پہنچانے جائیں۔ ان کی پہچان سیاسی تنظیموں کے اعتبار سے نہ ہو۔

یقیناً ہمارا ملک جو کہ اندرونی و بیرونی خطرات سے دو چار ہے اس ملک کی تقدیر صرف ایک پڑھا لکھا اور باشعور طبقہ ہی بدل سکتا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے کہ جب حکومت طالب علموں کو جامعات اور کالجز میں سازگار ماحول مہیا کرے اور یہ طالب علم ہی ہیں جو اپنے جوہر پوری دنیا میں منوا کر ملک اور قوم دونوں کا نام روشن کرتے ہیں۔

بے شک ہمارے تعلیمی نظام کو بہت سے مسائل درپیش ہیں،ان میں ایک اہم مسَلہ طلبہ یونین کی بحالی نہ ہونا بھی ہے۔

اس وقت ملک کی نوجوان نسل جو کہ 30 فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے موجودہ تعلیمی نظام سے ہم آہنگ نہیں ہے، اس کی ایک اہم وجہ ہماری جامعات اور کالجز میں پیش آنے والے پرتشدد واقعات بھی ہیں جو کہ دو گروپوں میں جھڑپ یا تکرار کے باعث پیش آتے ہیں۔

ماہر نفسیات کے تجزیہ کے مطابق جس شخص کے اندر تشدد، خوف اور دہشت کے عناصر زیادہ ہوں گے اس شخص کی شخصیت میں ٹھراوَ اور استحکام نہیں ہوگا۔

علم اندھیرے سے اجالے کی طرف سفر کرنے کا نام ہے، جو ہمیں بلند کردار اور ارفع زاقَوں سے آشنا کرتا ہے۔قائد اعظم نے ایک موقع پر فرمایا، پاکستان اپنے نوجوانوں پر فخر کرتا ہے، خصوصاً طلبہ پر جو ہر ضرورت پیش پیش رہتے ہیں، نوجوانو!تمھیں نظم وضبط سے کام لینا ہے اور تعلیم حاصل کرنی ہے ملک کی ذمہ داری کا بوجھ تمھارے کاندھوں پر ہے۔

اب اس مسئلہ کی طرف نظر ڈالی جائے تو 1984 میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور اس وقت کے صدر ضیاءالحق کی طرف سے سرکاری تعلیمی اداروں ، کالجز اور یونیورسٹیوں میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات اور سول سوسائٹی کی طرف سے تشویش کو وجوہات بنا کر یونین پر پابندی لگائی یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ حکومت مخالف طلبہ کے اتحاد میں نمایاں اثر و رسوخ اور طاقت کی وجہ سے مرحوم ضیاءالحق کو جنرل کے عہدے پر خطرہ نظر آرہا تھا اسی وجہ سے طلبہ یونین پر پابندی لگادی گئی تاکہ طلبہ کا اتحاد ٹوٹ جائے۔

کچھ سیاسی حکومتوں کی جانب سے مارشل لاءختم ہونے کے بعد طلبہ یونین سے پابندی اٹھانے کا کہا گیا لیکن موئثر طریقہ یعنی آئینی طریقہ سے طلبہ یونین کو بحال نہیں کیا گیا۔ کیونکہ 9 فروری 1984 مرحوم جنرل ضیاءالحق کی جانب سے طلبہ یونین پر پابندی کے نفاذ کے بعد 1989 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو نے طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا اور طلبہ یونین کو بحال کیا گیا اور اس کے بعد طلبہ یونین کے انتخابات کا سلسلہ شروع ہوا لیکن صرف صوبہ پنجاب میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نے انتخابات کروائے اور صوبہ سندھ اور بلوچستان جہاں پیپلز پارٹی یا اس کی مخلوط حکومتیں تھیں وہاں طلبہ یونین کے انتخابات نہیں کروائے جاسکے۔

لیکن یہ عمل بھی بشمکل 4 ماہ تک جاری رہ سکا اس کی وجہ سے یہ تھی کہ اس وقت کے جسٹس افضل ضلہ نے طلبہ یونینوں کے خلاف فیصلہ دیا اور مرحوم ضیاءالحق کے فیصلہ کو برقرار رکھا اور ایک بار پھر طلبہ یونین پر پابندی عائد ہوگئی۔

جس کے بعد سے لے کر اب تک ملک بھر کی جامعات اور کالجز میں داخلہ لینے والے طلبہ سے سیاست میں حصہ نہ لینے کے حلف نامے بھروائے جاتے ہیں اور اس بنیاد پر درجنوں طلبہ کو نکالا بھی جا چکا ہے۔ کم از کم سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے 29 مارچ 2008 کے اعلان کے بعد طلبہ یونین پر پابندی اعلانیہ طور پر تو اٹھالی گئی ہے۔ لیکن عملی طور پر آئینی اقدامات نہیں کئے گئے۔ صوبائی وفاقی حکومت کے پالیسی ساز اور ارکان پالیمنٹ پالیسی کا جائزہ لینے کے ذمہ دار ہیں۔ 29 مارچ 2008 کو سابق وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی نے طلبہ یونین پر پابندی ختم کرتے ہوئے کہا تھا کہ یونین سیاسی شعور میں مدد گار ثابت ہونگی۔

تمام طلبہ برادری نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے اس اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔

طلبہ کی تحریکیں قومی تحریکوں کا ہراول دستہ رہی ہیں اور انہوں نے شاندار کردار بھی ادا کیا ہے اسی لیئے مناسب دائرہ کار اور جمہوری طور طریقہ اپنا کر طلبہ سیاست میں بھی حصہ لینا چاہیں تو انہیں اس کی ضرور اجازت ہونی چاہئے کیونکہ یہ انکا آئینی اور جمہوری حق ہے۔

ہر شخص کو پرامن اجتماع کرنے اور تنظیم بنانے کی آزادی ہے۔کسی شخص کو کسی تنظیم میں شامل ہونے کے لئے مجبور نہیں کیا جانا چاہئے انسانی حقوق کا عالمی منشور(آرٹیکل20-1,2 آج کے طالب علموں کی اکثریت طلبہ یونین کی سرگرمیوں سے واقف نہیں ہے۔

کیونکہ طلبہ یونین سرگرمیوں پر طویل عرصہ سے پابندی عائد ہے۔ طلبہ یونین کی بحالی کے سلسلے میں ماہرین کی راے کوشامل کیا جانا بے حد ضروری ہے۔

ماہرین کی رائے کے مطابق، پاکستان کی شرح خواندگی 28 فیصد ہے جو کہ جنوبی ایشیا کی کم ترین شرح خواندگی ہے۔

ایجوکیشن انڈیکس میں پاکستان کا 173 ممالک میں 166 واں نمبر ہے۔ اگر حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے تو یہ مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔

طلبہ یونین کی بحالی کا دعویٰ جو کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے 29 مارچ 2008 کو کیا تھا وہ صرف دعویٰ ہی ثابت ہوا۔ امید ہے کہ جمہوری حکومت طلبہ یونین کی بحالی کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لے گی۔ کیونکہ جمہوری حکومت سے ہر شہری کو امیدیں وابستہ ہوتی ہیں اور جمہوری حکومت عوام کی آواز ہوتی ہے۔

LEAVE A REPLY