قائدِ عوام یونیورسٹی: وی سی ہٹاؤ مہم شدت اختیار کرگئی

0
345

لاڑکانہ: قائدِعوام یونیورسٹی میں عارضی وائس چانسلر سلیم رضا سموں کو برطرف کرنے کا مطالبہ زور پکڑگیا۔

ایمپلائز ویلفیرایسوسی ایشن نے مطالبے کی منظوری کیلئے احتجاجی ریلی نکالی اور پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا۔

احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ عارضی وائس چانسلر قائدِعوام یونیورسٹی نوابشاہ/لاڑکانہ خلاف ضابطہ اقدامات میں ملوث ہیں جسکی وجہ سے گزشتہ 10 روز سے تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔

مزید پڑھیے: قائدِعوام یونیورسٹی کرپشن اسکینڈل: دو سابق وائس چانسلروں اور دیگر کیخلاف تحقیقات آخری مراحل میں داخل

مظاہرے کے شرکاء نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ عارضی وائس چانسلر سلیم رضا سموں من پسند ملازمین کو نواز رہے ہیں اور دیگر ملازمین کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔

مزید پڑھیے: قائدِ عوام یونیورسٹی کے عارضی وائس چانسلر کو ہٹانے کا فیصلہ

مظاہرے کی قیادت شکیل چانڈیو، اعجاز سولنگی، دھنی بخش سیال اور ظہیر احمد کیریو نے کی۔

مظاہرین نے سندھ حکومت سے عارضی وائس چانسلر سلیم رضا سموں کو برطرف کرکے فوری طور پر ایک مستقل وی سی کی تعیناتی کا بھی مطالبہ کیا۔

 مزید پڑھیئے: نوابشاہ/لاڑکانہ: قائدِ عوام یونیورسٹی میں وی سی ہٹاؤ مہم شدت اختیار کرگئی

یاد رہے کہ گزشتہ روز قائد عوام یونیورسٹی میں پولیس اور رینجرز کے طلبا پر تشدد اور گرفتاریوں کیخلاف یوتھ ایکشن کمیٹی نے چیئرمین سندھو نواز گھانگرو اور سابق مرکزی رہنما جیئے سندھ اسٹوڈنٹ فیڈریشن (جساف) باقی بروہی کی قیادت میں عارضی وائس چانسلر کی رہائش گاہ کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مزید پڑھیے: نوابشاہ: قائدِعوام یونیورسٹی کے طلبہ کا ساتھیوں کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ

مظاہرے میں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے نمائندوں اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرے کے شرکاء نے وائس چانسلر اور یونیورسٹی انتظامیہ کے رویے کیخلاف شدید نعرے بازی کی اور عارضی وائس چانسلرسلیم رضا سموں، پرووسٹ یونیورسٹی ہاسٹلز عامر بھٹو، چیف سیکیورٹی آفیسر باقر علی زرداری اور سیکیورٹی آفیسر ماجد کلوڑ کی فوری برطرفی کا مطالبہ کیا۔

بعدازاں مظاہرین اور عارضی وائس چانسلر سلیم رضا سموں کے مابین ہوئے مذاکرات کے نتیجے میں تمام شاگردوں کو رہا کر دیا گیا جس کے بعد دھرنا ختم کردیا گیا۔

مزید پڑھیے: قائدِ عوام یونیورسٹی: یوتھ ایکشن کمیٹی کا وی سی ہاؤس کے سامنے مظاہرہ، تمام طلبہ رہا

یاد رہے کہ 28 جنوری کی شب یاد طلبہ کے دو گروپوں کے مابین تصادم کے بعد جامعہ انتظامیہ نے ہاسٹلوں پر پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری طلب کرکے کریک ڈاؤن کروایا جس دوران 20 سے زائد طلبہ کو حراست میں لیا گیا تھا۔

رپورٹ و ایڈیٹنگ : مامون علوی

LEAVE A REPLY