کشمیرمیں بھارتی مظالم اور اقوام عالم خاموش تماشائی

0
186
تحریر:موسیٰ غنی

کتنے کم عقل ہیں وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کے بہادر عوام کے دلوں میں جلنے والے آزادی کے شعلوں کو جبر و ستم کر کے بجھایا جاسکے گا۔بھارت شاید یہ نہیں جانتا لہو کے دیوں سے بلند ہونے والے شعلے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاکستر کرکے ہی بجھتے ہیں۔ کشمیری عوام برسوں سے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر آزادی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور آزادی لے کر ہی دم لیں گے بھارت خوابوں میں رہنا چھوڑ دے۔

افسوس تو اس بات کا ہے پاکستان کے عوام نہ باہر نکل رہے ہیں نہ پاکستان کے حکمران آواز اٹھا رہے ہیں اکیلے کشمیری اپنی جدوجہد کی کوشش کرتے کرتے یا تو خدا پیارے ہوگئے یا ان کو زندانوں میں ڈال دیا گیا کشمیر کمیٹی کا چئیرمین وہ شخص ہے جس کو خود حریت کے رہنماؤں نے ماننے سےءانکار کردیا کیا یہ بھارت کو خوش کرنے کی شازش ہے یا پاکستان کو نیلام کرنے کا بہانا ،پاکستانی عوام نے بہت جذبے سے آزادی کا دن منایا کیا ان شہداءکو یاد کیا جنھوں نے یہ بنایا کیا اس قائد کی تقریر یاد ہے جو اس نے کشمیر کیلئے گیارہ اگست انیس سو اڑتالیس میں کی تھی جس میں کہا گیا تھا کشمیر میں پاکستان کی شہ رگ ہے۔نہیں یاد ہے میرے ملک کے لوگوں کیوں کہ ہم بھلا بیٹھے ہیں کشمیر کو کہ وہ پاکستان کا حصہ ہے یہ ہماری قومی بے حسی کا مقام ہے یہ ان آقاو ¿ں کو خوش کرنے کی سازش ہے جو مسلم امہ کو یکجا نہیں دیکھ سکتے ۔

کشمیر میں (این آئی اے) نیشنل انسوٹیگیشن ایجنسی حریت رہنماو ¿ں کے ساتھ کیا کررہی صرف ان پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ان کے دلوں سے زبردستی پاکستان کی محبت نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے ان کو الزامات میں پھنسایا جارہا ہے ان کو بدنام و رسوا کیا جارہا اور پاکستان ان کی شکل دیکھ رہا ہے نہ مذمت کیلئے الفاظ ہیں اورنہ الفاظو ںمیں دم ،کشمیر کمیٹی کے چئرمین مولانا فضل الرحمن صاحب نہ ان کو خبر ہے کہ کشمیر میں کیا ہورہاہے کیا مظالم ڈھائے جارہے مطلب ہے کرسی سے چاہے کوئی بھی مل جائے۔

کشمیریوں میں روح آزادی کا نیا جذبہ اب تک ٹھنڈا نہیں ہوا ہے خدارا پاکستانی قوم اس پر آواز اٹھائیں قابض فورسز نے برہان وانی کی شہادت کے بعد ایک سال میں فسطائیت کا بھر پور مظاہرہ کرتے ہوئے 20 ہزار سے زاید کشمیریوں کو پیلٹ گنز کا نشانہ بنایا۔ 150 کشمیریوں کو شہید، 18ہزار سے زائد کو زخمی، 2200 افراد کو بصارت سے محروم، 11ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا، 17ہزار رہائشی مکانات اور ساڑھے 6ہزار گاڑیوں کو نقصان پہنچایاکیا یہ کم ہے کیا ہم اپنے بھائیوں ،بہنوں اور بیٹوں کو اس طرح چھوڑ کربھاگتے ہیں ۔

بھارتی فورسز نے ہر طرح کا ظلم کشمیری عوام پر کیا، مگر کشمیری عوام پیچھے نہیں ہٹے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم روز بروز بڑھتے چلے جا رہے ہیں تو دوسری جانب کشمیری بھی آزادی کی تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے شہادتوں کی تاریخ رقم کرتے چلے جا رہے ہیں۔ بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ہر قسم کا ظلم وستم آزما کر دیکھ لیا، یہاں تک کہ پیلٹ گن کا بھی بے دریغ استعمال کر کے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کا حربہ آزمایا مگر ہر کشمیری کا لہو ایندھن بن کر آزادی کی اس شمع کو مزید فروزاں کرتا چلا جا رہا ہے۔

آزادی کی حرمت کے لیے کٹ مرنے کو ہزاروں لاکھوں کشمیری ہمہ وقت تیار ہیں۔ بھارت کو یہ بات جتنی جلد سمجھ آجائے اس کے لیے اتنا ہی بہتر ہے کہ بھارت کشمیر میں جاری آزادی کی تحریک کو نہیں روک سکتا ہے۔ بھارت کو جلدیہ بات بدیر معلوم ہو جائے گا کہ فوجی طاقت سے آزادی کی خواہش ختم نہیں کی جاسکتی اور یہ بات پاکستانی عوام کو اور ان کے حکمرانوں کو بھی یاد رکھنی چاہئیے ۔

LEAVE A REPLY