سلف ڈیفنس رائٹ کیا ہے؟کیا اس میں کسی کو قتل کیا جاسکتا ہے۔۔۔؟

0
207
تحریر: منصور مغیری

گذشتہ کچھ دنوں سے اہلیان سندھ شدید غم و غصے میں ہیں، اس غصے کی جھلک اتنی خطرناک نظر آئی ہے کہ اعلیٰ ایوان ہل کر رہ گئے اور سندھ کے وزیراعلیٰ کو بالاخر پانچ دن کے بعد ہوش آیا اور انہوں نے پولیس کے خلاف دہواں دار تقریر اسمبلی میں کرکے نہ صرف اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچالی بلکہ کچھ لوگوں میں اپنی ہمدردیاں بھی پیدا کرلی۔

حالانکہ اس سے بڑے واقعات اور سانحات سندھ میں رونما ہوچکے ہیں لیکن وہاں پر وزیراعلیٰ کا ضمیر آرام فرما رہے تھے۔میہڑ میں چانڈیو قبیلے کے تین لوگ بیچ شہر میں بے دردی سے مارے گئے تو مراد شاہ کو وہ اجڑے ہوئے سہاگ نظر نہیں آئے اور نہ ہی ان بچیوں کی چیخیں نظر آئیں جو کراچی کے شاہراہوں پر بے یار و مددگار مارے مارے پھرتے رہے۔اصل میں وزیراعلیٰ کو سندھیوں کے احتجاج کا احساس ہی بعد میں ہوا جب بات بہت آگی نکل آئی اور انہوں نے مجبور ہوکر قدم اٹھایا تاکہ چالیس دنوں کے بعد جعلی اکائونٹس کیس میں ان کے خلاف جو ریفرنس دائر ہونے والا ہے اس کے لیے کچھ نہ کچھ سندھیوں سے ہمدردی مل جائے ۔

سینیئر پولیس افسر اور دیانتدار شخص ڈاکٹر نجف مرزا سے ارشاد رانجھانی قتل کیس پر گفتگو ہوئی، ان سے دریافت کیا کہ “سیلف ڈفینس رائٹس” کیا ہیں؟  اس میں اپنے دفاع میں حملہ آور پر جوابی وار کرنے والے کے پاس کتنے قانونی اختیار ہیں؟؟  ڈاکٹر نجف مرزا صاحب نے جو حقائق بتائے وہ میرے لیے انتہائی حیران کن ہیں اور میں اپنے دوستوں سے بھی شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ اس میں کتنے قانونی اختیارات حاصل ہیں ۔۔۔

نجف مرزا کا کہنا تھا کہ سیلف ڈفینس رائٹس جس کا مطلب اپنے دفاع میں جوابی کاروائی کرنا ہے، باالکل محدود اختیار ہیں ۔سب سے پہلے تو چوری، یا پیسہ چھیننے والے پر تو اس اختیار کے تحت کوئی جوابی حملہ نہیں کیا جا سکتا۔اگر یہ معلوم ہوجائے کہ کوئی شخص جان سے مارنے یا جانی نقصان دینے کے ارادے سے سامنے آرہے ہیں تو اس، وقت بھی جوابی کارروائی نہیں کی جا سکتی، سوائے اس کے کہ تصدیق ہوجائے کہ وہ شخص جان سے مارنے کے لیے اب اسلحہ نکال کر استعمال کرنے کی پوزیشن لے رہا ہے تو اس وقت ہی اپنے جان بچانے کی حفاظت کے عیوض اس پر حملہ کر سکتا ہے اور وہ حملہ بھی جان لیوا نہیں ہونا چاہئے صرف اس کو زخمی کرکے گرانا ہے تاکہ وہ آپ پر حملہ نہ کرسکے۔اگر جوابی حملے میں کوئی پسٹل یا گن سے فائر کیا جانا ہے تو وہ گولی نہ تو اس کے سر پر مارنی ہے اور نا ہی سینے پر، کیونکہ ایسا کوئی جوابی حملہ نہیں کرنا ہے جس، سے اس کی جان چلی جائے ۔بقول، ڈاکٹر نجف مرزا صاحب کے تو ابھی یہ طئے ہونا ہے کہ ارشاد رانجھانی آیا اس سے پیسے لوٹنے کے غرض سے قریب آئے یا جان سے مارنے کے لیے رحیم شاہ کی طرف بڑہے۔ ظاہری طور پر اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ارشاد رانجھانی رحیم شاہ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا ۔جب ارشاد زخمی ہوا تو پھر یہ کسی کے پاس اختیار نہیں کہ اس پر مزید فائر کرے یا اس کو تڑپاتا رہے تاکہ وہ مر جائے، اس کی جان کی اہمیت زیادہ ہے اسے فوری اسپتال پہچانا انتہائی لازم تھا اور بے دردی سے مارنے کا اختیار تو کسی کے پاس نہیں ہے۔ڈاکٹر نجف مرزا صاحب نے مزید بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں نیشنل، جاگرافک چینل پر ایک امریکن خاتون کی اسٹوری دیکھی جس کو بھی امریکی جیوری نے سیلف ڈفینس رائٹس میں اختیارات زیادہ استعمال کرنے کی سزا دی اور جس وقت اس خاتون کو سزا دی گئی تو اس کی عمر بیس برس تھی اور اب وہ باون برس کی ہوچکی ہے اور اب بھی اس کی سزا دو سال بچتی ہے۔اس امریکی خاتون نے دیوار چھلانگ کر ڈکیتی کے ارادے سے گھر میں داخل ہونے والے شخص پر گولی چلاکر ہلاک کیا تھا جس پر امریکی حکومت نے ان کی جوانی جیل میں ہی ختم کردی۔

ارشاد رانجھانی کیس میں رحیم شاہ نے سیلف ڈفینس رائٹس کا کتنا استعمال کیا ؟ اس کے لیے تمام ویڈیوز موجود ہیں، اب اس ملک کے لوگ اور قانوندان ہی بتائیں کہ سیلف ڈفینس رائٹس کا کتنا ناجائز فائدہ لیا گیا اور ارشاد رانجھانی کیس میں رحیم شاہ کے ساتھ کیا ہونا چاہئے تاکہ آئندہ کوئی جڑتو سیلف ڈفینس رائٹس کیس میں کسی اور کی جان لینے سے قبل سوچے تو صحیح۔۔

LEAVE A REPLY