بلوچستان میں بارشوں نے تباہی مچا دی،4 افراد لاپتہ، لسبیلہ میں ایمرجنسی نافذ

0
186

کوئٹہ: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں شدید بارش کے بعد سیلاب نے تباہی مچا دی جب کہ سیلابی ریلوں میں 4 افراد بہہ گئے جن میں سے ایک کی لاش نکال لی گئی۔

مکران اور قلات ڈویژن میں بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر مینگل کا کہنا ہے کہ اوتھل میں سیلابی صورتحال کے باعث 4 افراد لاپتہ ہوگئے جب کہ ریسکیو ذرائع کے مطابق برساتی ریلے میں بہنے والے ایک شخص کی لاش نکال لی گئی۔

ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر مینگل کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے باعث صورتحال کنٹرول میں ہے، بارشوں میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے، بارشوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

شمالی بلوچستان میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ تھم گیا تاہم ندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے اور سیلابی ریلے سے رابطہ سڑکوں کو شدید نقصان، ضلعی انتظامیہ چمن کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد 40 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔

وادی زیارت، توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی اور کان مہترزئی میں برفباری کے بعد آمد و رفت کی بحالی کے لیے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں جب کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور پی ڈی ایم اے کے ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کردی گئی ہیں۔

خضدار میں سب سے زیادہ 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جہاں برساتی نالے بپھر گئے جب کہ مکران اور ضلع لسبیلہ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جہاں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں روانہ کردی گئیں۔

حب ڈیم انتظامیہ کے مطابق رات گئے ہونے والی بارش سے ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڑھ فٹ تک بلند ہوگئی اور ڈیم میں اس وقت ڈھائی فٹ پانی کا ذخیرہ موجود ہے۔

گزشتہ روز بارش کے بعد سیلابی ریلوں سے متاثر ہونے والی تربت، ہوشاب اور لسبیلہ میں مختلف شاہراہوں کی بحالی کا کام بھی شروع کردیا گیا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق لسبیلہ میں 28، سبی 21، تربت 18، قلات میں 15، گوادر میں 13، ژوب 12، جیوانی 4 اور پنجگور میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔

LEAVE A REPLY