آدھا گھنٹہ چہل قدمی، بلڈپریشر سے نجات

0
147

ماہرین کہتے آئے ہیں کہ کوئی دوا اور غذا ورزش کی متبادل ثابت نہیں ہوسکتی تاہم ورزش دوا کا متبادل ضرور ثابت ہوسکتی ہے۔ اب ایک سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ روزانہ صرف 30 منٹ کی تیزواک سے بلڈ پریشر کو عین اسی طرح قابو میں رکھا جاسکتا ہے جس طرح وہ دوا سے معمول پر رہتا ہے۔

نیوسائنٹسٹ نامی جریدے میں شائع ایک خبر کے مطابق روزانہ صبح نصف گھنٹے کی واک پورا دن بلڈ پریشر کو معمول پر رکھتی ہے۔ اس کے لیے یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے ماہرین نے 55 سے 80 سال کےد رمیان کے 32 مرد اور 35 خواتین کو شامل کیا ۔ ہر فرد کو کم سے کم چھ روز تک تین مختلف منصوبوں پر عمل کروایا گیا ۔

پہلے منصوبے میں شرکا کو روزانہ 8 گھنٹے تک بٹھایا گیا۔ دوسرے پروگرام میں شرکا کو پہلے ایک گھنٹے تک بٹھایا گیا اور اس کے بعد ٹریڈ مِل پر 30 منٹ واک کرائی گئی اور اس کے بعد مزید ساڑھے چھ گھنٹے تک بٹھایا گیا ۔ آخر میں شرکا کو ٹریڈ مل مشین پر 30 منٹ تک کی واک کروائی گئی اور ساڑھے چھ گھنٹے تک ایسے بٹھایا گیا اور ہر 30 منٹ بعد انہیں تین تین منٹ کے لیے ہلکی شدت کی چہل قدمی کروائی گئی ۔ تمام شرکا کو ایک سا کھانا دیا گیا اور پورے دن ان کا مطالعہ کیا گیا۔

نتائج سے ثابت ہوا کہ جن افراد نے ورزش کی ان میں بلڈ پریشر معمول پر رہا اور ا کے سسٹولک بلڈ پریشر میں نمایاں بہتری ہوئی یعنی دل دھڑکتے ہوئے خون کی رگوں میں پریشر بہتر نوٹ کیا گیا اور دل کے امراض میں بھی یہی چیز نوٹ کی جاتی ہے۔ تین منٹ کی واک کے فائدے مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ نمایاں تھے۔

LEAVE A REPLY