سندھ ، دوپہر کی شفٹ میں چلنے والے اسکول عدم توجہی کا شکار

0
59

سرکاری اسکولوں کی خراب حالت کا وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ  متعدد بار خود اعتراف کرچکے ہیں۔ ان کی جانب سے بہتری لانے کے دعوے کئے گئے لیکن عملی طور پر ایسا نظر نہیں آرہا۔

دوپہر کی شفٹ والے سرکاری اسکولوں میں طلبا کی تعداد نہ ہونےکے برابر ہوچکی ہے اور ایک طالب علم پر ماہانہ اٹھنے والا خرچ  بڑے اور معروف نجی اسکولوں کی فیس سے زیادہ ہوچکا ہے۔

کراچی کے علاقے ملیر میں انگلش میڈیم گورنمنٹ بوائز سیکنڈری اسکول میں ایک ماہ کے دوران بچوں کی زیادہ سے زیادہ حاضری 30 اور کم سے کم 15 رہی جبکہ اسکول میں 90 بچے رجسٹرڈ ہیں۔

اسکول میں  اساتذہ کی تعداد 12 اور غیر تدریسی عملہ دو افراد پر مشتمل ہے۔ اسکول کے اسٹاف کا خرچہ تقریباً چار لاکھ 80 ہزار ہے۔ اس حساب سے ایک طالبعلم پر سرکار کے 18 ہزار روپے خرچ ہورہے ہیں۔یہ رقم  شہر کے معروف  اور بڑے نجی اسکولوں کی فیس سے زیادہ ہے۔

محکمہ تعلیم کے کچھ افسران بتاتے ہیں کہ سندھ بھر میں مڈ شفٹ والے تمام اسکولوں کو بند کردیا جائے گا، اس کی وجہ  طلبہ کی رجسٹریشن نہ ہونا ہے۔

وزیر تعلیم سید سردار شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ بھر کے 4900 اسکول چھت، 97 فیصد سائنس، 98 فیصد بیالوجی، کیمسٹری، فزکس اور کمپیوٹر لیبارٹریوں سے محروم ہیں۔

سندھ بھر کے 41649 اسکولوں میں کوئی  لائبریری موجود نہیں۔

LEAVE A REPLY