جنگی حکمت عملی اور پڑوسی

0
164
تحریر:  موسیٰ غنی

 

سنا ہے جب اﷲ الرب العزت کسی قوم پر مہربان ہوتا ہے تو اس قوم کو باشعور قیادت نصیب کرتا ہے جو ماضی میں ہم نے قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان جیسے حکمرانوں میں دیکھیں ،کسی بھی قوم کے اعمال کا پتہ لگانا ہو تو اس کی قیادت کودیکھ لیں خواہ وہ کیسی بھی ہو البتہ اس بات کے ناقدین بھی بہت ہیں اور وہ نت نئی دلیلیں بھی پیش کرتے ہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ شاید دنیا بھر میں قیادت کا لامحدود بحران ہے گزشتہ کئی دنوں سے پاک بھارت تعلقات 70سالہ تاریخ کی انتہائی خطرناک نہج پر کھڑے ہیں ایک طرف عمران خان کی قیادت میں پاکستان ہے تو دوسری جانب ہندو ووٹوں پر بدمعاشی اور قتل عام مچاتا نریندر مودی جس کے ہاتھ میں دنیا کی2سب سے بڑی آبادی والا ملک بھارت ہے ،جو دن گزرنے کے ساتھ ساتھ بدحالی اور قیادت کے فقدان میں جکڑتا جارہا ہے جس کو خود وہاں کے بڑے نا چاہتے ہوئے بھی ماننے پر مجبور ہیں اور قیاس آرائیاں اپنے عروج پر ہیں کہ مودی جنگ کروانا چاہتا ہے مگر ایک سوال جو فوری ذہن میں آتا ہے ہے وہ یہ ہے کہ جب امریکا نے جاپان پر حملہ کیا تھا تو اس وقت ایٹمی طاقت عام نہیں تھی اور اس جنگ میں استعمال ہوئے ایٹم بم میں جاپان نے صرف تباہ کاریاں ہی نہیں بلکہ اپنی کئی نسلیں برباد ہوتے دیکھیں ، اپنے بچے معذور ہوتے دیکھے مگر موجودہ دور کا ایٹم بم جو دونوں ممالک پاکستان اور بھارت کے پاس ہے اس کی طاقت اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہے صرف ایک بٹن کی دوری ہے اور دنیا کا منظر نامہ یکسر مختلف، تو شاید قیادت کا فقدان ہی کہا جائے گا کہ دو جذباتی قومیں ایسی خطرناک چیز کی حامل ہیں جو دنیا تباہ کرنے میں بس چند گھنٹے یا منٹ لے گی ۔

میڈیا لفظ بہت اچھا ہے مگر اس کے کئی کردار ہیں اصلاح، منافقت اور بدعنوانی ۔۔ایک جانب پاکستان کا میڈیا ہے جس میں یقینا جہاں اچھے اور بڑھے لکھے لوگ ہیں وہیں کچھ برساتی مینڈک بھی مگر اس قوم اور کچھ مثبت رپورٹنگ کا رجحان اب بھی ہے یا آپ اس کو یوں لے لیں جب سے نئی حکومت آئی ہے ہر صحافی پیٹ پر پتھر باندھ کر گھوم رہا ہے یہاں یہ بات ذہن میں رکھی جائے میں نے ایک’ صحافی’کی بات ہے ہاں تو بات کو واضح کرتے ہوئے ہمارے ٹی وی چینلز اور اخبارات میں لوگوں کی ذہن سازی کی جاتی ہے مگر وہ معاشرے کے مثبت پہرائے میں ہوتی ہے جو لوگوں میں اٹھنے بیٹھنے کے ڈھنگ کے ساتھ ان کے حکمرانوں کی سوچ اور سمجھ بوجھ بھی دیتی ہے تو وہیں لامحدود غلطیاں بھی ہیں جس کا کوئی انکاری نہیں،ہاں اس بات سب متفق ہونگے کہ حجان سے صورتحال پیدا نہیں کی جاتی دشمن ملک کے خلاف نام نہاد پرپنگنڈہ مہم نہیں چلائی جاتی ،وار رومز اور سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہوئے ٹی آر پی کی آڑ میں ملک میں قتل و غارت گری نہیں کی جاتی وہیں دوسری جانب پس منظر کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کا ہر مسلمان شاید محمود غزنوی ہے جس کو ہمارے ہندوخاص کرہندوستان کے رہنے والے اور بی جے پی (دہشتگرد ہندو) ان کو قتل عام کرنے والا سمجھتے ہیں البتہ منظر نامہ الٹا ہے بھارت میں جب کبھی انتخابات کا دور آیا ہے مسلمانوں کو پاکستان بھیجنے اور مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارت نے ناجائز مظالم کی انتہاء کی ہے ہزاروں کی تعداد میں قتل کیے گئے لاکھوں کو گھروں سے غائب کردیا گیا جبکہ ایک لمبی فہرست کے تحت ان کو دہشت گرد اور پاکستان کا ایجنٹ کہہ کر مار ڈالا گیا ۔

ایک جانب حکمرانوں کی سپرستی کرتاس بھارتی میڈیا ہے تو دوسری جانب اقلیتیں جو دن بدن بھارت میں مشکلات کا شکارہوتی جارہی ہیں شاید یہ بعد بھارت سمجھنے سے انکاری ہے کہ خالصتان مومنٹ، تامل ناڈو ،مسلم مومنٹ اور سب سے بڑھ مقبوضہ وادی کشمیر جو اپنے حقوق کی جنگ کیلئے اب برسرپیکار ہیں اگر بھارتی حکمرانوں کا رویہ اور ان کی حکمت عملی کو دیکھیں تو شاید محسوس ہوتا ہے بھارتی مسلمانوں کی جانب سے قائد اعظم کی آواز پر لبیک نہ کہہ کر غلطی کی جس کا خمیازہ وہ آج بھی بھارتی حکومت اور فوج کی سرپرستی یا ہاں میں ہاں ملا کردیتے ہیں ،پلومہ حملے اور پاکستان کی طرف منہ توڑ جواب کے بعد بھارت میں اقلیتیں مزید عدم تحفظ کا شکاہوگئی ہیں اسکولو ں میں پڑھنے والے بچوں کو اسامہ بن لادن اور حافظ سعید کے طعنے یا جملے کسے جارہے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کے بی جے پی (آرایس ایس ) کی تمام تر خواہشات پر عمل پیرہ ہے جو آر ایس ایس میں شامل ہونے سے قبل دی جاتی ہے ۔

بھارت کی 70سالہ تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو ایک چیز عام ہے وہ یہ ہے کہ جب کسی بھی حکومت کا پلڑا کمزور ہونے لگتا ہے تو وہ مسلمان مسلمان کا گیت گانے لگتی ہے ایسا ہی کچھ مودی حکومت نے اب سے 1سال قبل کیا تھا جو فیصلہ تھا ٹرپل طلاق کا جسکافائدہ تو خیر کچھ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہی ہوا اس سے قبل بھارت جیسے نام نہاد ملک کا پول اس وقت کھلا جب مودی حکومت کے عظیم سپریم لیڈر اور ہندؤں کے سرپرست اعلیٰ بننے کے خواب میں مبتلا یوگی آدتتیا ناتھ جنھوں نے مسلم ناموں والوں شہروں کو بدلنا شروع کیا اور پھر یہ اس نہج تک پہنچ گئے کہ معاملات بھارتی پیشوا کے ہاتھ سے نکل گئے اوریوم مسلمانوں کی مساجد تک نشانہ بنائی جانے لگیں ابھی معالات کو گزرے ایک ماہ نہیں گزرا تھا کہ مودی سرکار نے ایودھیا معاملہ چھیڑ کر ہندوؤں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ،یہ وہ تمام نظریات ہیں جو مودی حکومت میڈیا اور نام نہاد سیکولرازم کا ڈھونگ رچانے کیلئے کرتا ہے جس سے دنیا بے خبر اور لاعلم ہے۔

اب سوچنا یہ ہے کہ موجودہ دور میں مودی حکومت کی جنگی پالیسی کامیاب ہوتی ہے یہ عمران خان کی صلح کی پیش کش ،باظاہر یوں لگتا ہے کہ میدان جنگ سج چکاہے اب کچھ لمحات اور ہیں اور پھر ۔۔۔ اس تمام صورتحال کا مرکز پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کہ وہ تمام ممالک لپیٹ میں آئیں گے جو اس ایٹمی طاقت سے لیس ہیں ۔

LEAVE A REPLY