پاکستان اسٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر دینے کا فیصلہ کرلیا گیا

0
62

اسلام آباد: مسلسل خسارے کا شکار پاکستان اسٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

 تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پرچلانے کے حوالے سے ایک رپورٹ بھی تیار کر لی ہے۔ جس کے تحت اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) آج پاکستان سٹیل ملز کو چلانے کے لیے روسی یا چینی کمپنی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کی منظوری کے بعد وفاقی کابینہ پاکستان اسٹیل ملز کی قسمت کا حتمی فیصلہ کرے گی۔ ماہرین کی کمیٹی کے سربراہ خالد منصور اور دیگر حکام کمیٹی کو بریفنگ دیں گے۔

ماہرین کے تین تجاویز میں سے پہلی تجویز کہ اسٹیل مل کو حکومت خود چلا سکتی ہے، دوسری تجویز یہ ہے کہ اسٹیل مل کو لیز پر دے دیا جائے جبکہ تیسری تجویز یہ ہے کہ اسٹیل مل کی نجکاری کر دی جائے۔

ذرائع کے مطابق تین چینی اور تین روسی کمپنیوں نے پاکستان اسٹیل ملز میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب گیس کی اچانک بندش سے اسٹیل ملز کے بلاسٹ فرنس برباد ہوگئے تھے ۔

بلاسٹ فرنس کی تبدیلی کے لیے اب بڑی سرمایہ کاری کرنا ہو گی جبکہ کچھ دیگر پارٹس کو بھی مرمت کرنے کی ضرورے ہے۔ اسٹیل ملز کی مرمت سے سالانہ 10 لاکھ ٹن اسٹیل مصنوعات پیدا ہوسکتی ہیں جبکہ طلب کو مد نظر رکھتے ہوئے سالانہ پیداوار کو 30 لاکھ ٹن تک بھی بڑھایا جاسکتا ہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان اسٹیل ملز کا پیداواری عمل 2015ء سے مکمل طور پر بند ہے ۔

ادارے پر قرضوں کا بوجھ اربوں روپے تک پہنچ گیا ہے، 2008ء تک اسٹیل ملز منافع بخش ادارہ تھا تاہم نان ٹیکنیکل سربراہوں کی وجہ سے تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا۔

اس وقت اسٹیل ملز میں 5 ارب روپے کا خام مال موجود ہے ۔

LEAVE A REPLY