اسرائیل: مسجد کو شراب خانے میں تبدیل کردیا

0
68

قاہرہ: اسرائیلی حکام نے مقبوضہ فلسطین کےعلاقے میں قائم تاریخی مسجد کو شراب خانے میں تبدیل کردیا۔

  تفصیلات کے مطابق مقامی مسلمان عہدیدار نے بتایا کہ شمالی فلسطین کے علاقے صفد کی مقامی انتظامیہ نے 13 ویں صدی میں تعمیر کی جانے والی الاحمر (سرخ) مسجد کو شراب خانے اور شادی ہال میں بدل دیا۔

اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی وقف کے سیکریٹری خیر طباری نے بتایا کہ ‘جب میں نے مسجد کے اندر ہونے والی تخریب کاری دیکھی تو مجھے شدید صدمہ ہوا، وہاں منبر پر موجود قرآنی ایات کی خطاطی کو عبرانی میں 10 احکامات سے تبدیل کردیا گیا تھا’۔

دی نیو عرب نامی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق صفد کے علاقے میں موجود کئی مساجد کی یہی کہانی ہے، 1319 میں بنائی گئی ایک یونانی مسجد کو بھی آرٹ گیلری میں تبدیل کر کے یہاں عبادت کرنے پر پابندی عائد کردی گئی۔

رپورٹ کے مطابق خیرطباری نے کئی سال پہلے ناصرہ کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا تھا جس میں اس مسجد کو اسلامی وقف کے حوالے کرنے کی درخواست کی گئی تھی لیکن عدالت کی جانب سے ابھی تک اس مقدمے پر فیصلہ نہیں دیا گیا۔

خیرطباری نے بتایا کہ انہوں نے اپنی درخواست کے ساتھ اس مسجد کی ملکیت کی اصل دستاویزات اور یہاں فراہم کی جانے والی خدمات کےمعاوضوں کی فہرست بھی جمع کروائی تھی۔ اب مذکورہ مقام کا نام تبدیل کر کے ‘خان الاحمر’رکھ دیا گیا تا کہ بطور مسجد اس کی حرمت کی طرف سے توجہ ہٹائی جاسکے۔

اس سے قبل 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد متعدد مرتبہ اس مسجد کی بےحرمتی کی جاچکی ہے، ابتدا میں یہودی عبادت گاہ اور یہودی اسکول میں تبدیل کیا گیا تھا۔

دوسری جانب مسجد کے داخلی مقام پر نصب کتبہ 1276 عیسوی میں مسجد کی تعمیر کا پتہ دیتا ہے۔

یاد رہے کہ مسجد تاریخی اور ثقافتی اعتبار سے خاصی اہمیت کی حامل ہے کیوں کہ اسے 1223-1277 عیسوی میں مملوک سلطان الداہر نےتعمیر کروایا تھا۔

LEAVE A REPLY