عصمت قتل کیس: 3 ملزمان کو 2 روزہ ریمانڈر پر پولیس کے حوالے

0
237

کراچی: عصمت قتل کیس میں گرفتار 3 ملزمان کو 2 روزہ ریمانڈر پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا، ملزموں میں عامر، شاہ زیب اور ولی محمد شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق ملزمان نے عصمت کو غلط انجکشن لگایا، اسپتال کے مفرور ڈاکٹر کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔

ڈائریکٹر ہیلتھ کی ہدایت پر بنائی گئی تین رکنی کمیٹی کے رکن ڈاکٹر انجم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا عصمت کو انجکشن ڈائیلیوٹ کیے بنا لگایا گیا جس سے موت ہوئی، عصمت دانتوں کی تکلیف کے ساتھ ڈسٹرکٹ اسپتال کورنگی آئی تھی، عصمت نے ڈاکٹر ایاز سے اینٹی بائیوٹک انجکشن لیے۔

اسپتال میں 22 سالہ عصمت کی ہلاکت: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کا انکشاف

ڈاکٹر انجم نے مزید کہا عصمت کا اسپتال آنا جانا تھا اور وہ ملازمت بھی کر چکی تھی، عصمت انجکشن لے کر اسپتال ہی میں قائم فلاحی ادارے کی لیب گئی، عصمت کے شاہ زیب سے تعلقات تھے، ملزمان سے تفتیش جاری ہے، ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد حتمی رپورٹ محکمہ صحت کو جمع کرائیں گے۔

یاد رہے گزشتہ روز کو سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں غلط انجکشن لگنے کے باعث لڑکی کی موت کی خبر سامنے آئی تھی تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ نے خبر کا رخ ہی بدل دیا۔ کراچی کے علاقے ابراہیم حیدری کی رہائشی 22 سالہ عصمت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوگئی۔

عصمت کا پوسٹ مارٹم جناح اسپتال میں ہوا، مزید ٹیسٹس کیلئے نمونے اسلام آباد بھجوا دیئے گئے ہیں، عصمت کی موت کے 3 گھنٹے تک اسے ٹی بی وارڈ میں رکھا گیا پھر انتظامیہ کو خبر کی گئی۔

موت کے بعد استعمال ہونے والی سرنج اور بچا ہوا انجکشن بھی غائب کر دیا گیا۔ لڑکی 7 ماہ قبل ہسپتال میں قائم ٹی بی کنٹرول پروگرام میں کام کرتی تھی۔

LEAVE A REPLY