دونوں ملک ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے

0
95

تہران: وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے تہران میں مشترکہ پریس کانفرنس میں عمران خان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ دونوں ممالک کو دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ایران کے حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جب کہ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک کے لیے چیلنج ہے اور پاکستان دہشت گردی میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

عمران خان نے دہشت گردی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ میرا ایران آنے کا مقصد دہشت گردی کا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان اور ایران میں دوریاں پیدا ہوئیں جب کہ دونوں ممالک کے درمیان اب فاصلوں کو ختم ہونا چاہیے۔ چند روز قبل بلوچستان میں ہمارے 14 اہلکار شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانیں قربان کی ہیں۔ ہم خطے سے دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں جب کہ افغانستان بھی دہشت گردی سے متاثر ملک ہے۔ بھر پور فوجی طاقت کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا جب کہ ہم بھی افغانستان میں سیاسی استحکام چاہتے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ایران کی جانب سے پرتپاک استقبال پر ان کا مشکور ہوں۔ زمانہ طالبعلی کے دوران تہران آیا تھا۔ ایران میں برابری کا معاشرہ زیادہ نظر آیا۔ ایرانی معاشرے میں سماجی مساوات کا عکس نظر آتا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان سے دو طرفہ تعلقات پر تعمیری بات چیت ہوئی ہے اور پاک ایران تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پر عزم ہیں جب کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ عمران خان نے دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے جلد پاکستان کا دورہ کروں گا۔

حسن روحانی نے پاک ایران تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کوئی تیسرا ملک پاک ایران تعلقات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا ہے جب کہ عمران خان کے ساتھ سرحدی معاملات پر بھی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدوں پر سیکیورٹی کے لیے مشترکہ فورس بنانے پر اتفاق ہوا ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ہم دونوں ممالک کے ساتھ تجارت کو وسعت دینا چاہتے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کمرشل سرگرمیوں کا فروغ چاہتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈری ایکشن فورس بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران 10 گنا زیادہ بجلی پاکستان ایکسپورٹ کرنے کو تیار ہے جب کہ آئل اور گیس سے متعلق بھی پاکستان کی ضروریات پوری کرنے کو تیار ہیں۔

LEAVE A REPLY