عصمت قتل کیس : لواحقین کا پولیس تفتیش پرعدم اعتماد کا اظہار

0
233

کراچی کےعلاقے کورنگی کے سرکاری اسپتال میں زیادتی کا نشانہ بننے والی عصمت کے لواحقین پولیس کی تفتیش پرعدم اعتماد کا اظہاردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عصمت کے اہلخانہ نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔لواحقین کاس کہنا ہے کہ کورنگی کے سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر شکیل لوگوں کو تنگ کرتا ہے، ڈاکٹر شکیل کی وجہ سے عصمت نے بھی سندھ گورنمنٹ اسپتال سے نوکری چھوڑی تھی اور وہ ایک نجی اسپتال کے لیے کام کررہی تھی۔

کراچی ،ڈاکٹر کی مبینہ غفلت کے باعث 22سالہ لڑکی عصمت جاں بحق

اہل خانہ نے بتایا کہ عصمت دانت کے درد کے علاج کیلئے اسپتال گئی پھر اس کی لاش واپس آئی، مقتولہ کی خالہ نے الزام عائد کیا کے عوامی کالونی پولیس کیس کی ٹھیک تفتیش نہیں کررہی۔

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ ایسٹ کی عدالت میں عصمت کی ہلاکت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران گرفتار تین ملزمان عامر،شاہ زیب اور ولی محمد کو پیش کیا گیا۔عدالت نے ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ تفتیشی افسر کا کہنا ہے کہ سرکاری اسپتال کا ڈاکٹر فرار ہوگیا ہے تاہم ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

اسپتال میں 22 سالہ عصمت کی ہلاکت: پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کا انکشاف

ادھروزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھی عصمت کی ہلاکت کا نوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ بتایا جائے مریضہ سے زیادتی اور قتل میں کون سے عناصر ملوث ہیں؟

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں واقع دارالصحت اسپتال میں ایک بچی نشوا کو غلط انجیکشن لگادیا گیا تھا جس کی وجہ سے بچی کا دماغ 71 فیصد مفلوج ہوگیا تھا۔ بچی کئی روز اسپتال میں زندگی و موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آج صبح بالآخر دم توڑ گئی۔

LEAVE A REPLY