عصمت قتل کیس: میڈیکل رپورٹ منظر عام پرآگئی

0
161

کراچی: کورنگی کے سندھ گورنمنٹ اسپتال میں غلط انجیکشن سے جاں بحق ہونے والی عصمت کی میڈیکل رپورٹ منظر عام پرآگئی۔

تفصیلات کے مطابق ایم ایس کورنگی اسپتال کی جانب سے بنائی گئی تین رکنی کمیٹی نے محکمہ صحت کو بھیجی گئی اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شاہزیب نامی لڑکے نے عصمت کو 10 ایم ایل کا انجیکشن لگایا اور کچھ ہی دیر بعد 5 ایم ایل کا ایک اور انجیکشن لگادیا جس سے لڑکی کی طبیعت بگڑ گئی۔

رپورٹ کے مطابق لڑکی دانت کے درد کا علاج کرانے اسپتال آئی تھی جہاں 15 ایم ایل کا انجیکشن لگنے سے لڑکی کی طبیعت بگڑگئی، طبیعت بگڑنے کے بعد لڑکی کو ایمرجنسی بھیج دیا گیا جبکہ ایمرجنسی کے ڈاکٹر نے عصمت کو دل کے ڈاکٹر کے پاس بھیج دیا۔

عصمت قتل کیس : لواحقین کا پولیس تفتیش پرعدم اعتماد کا اظہار

تین رکنی کمیٹی میں سربراہ ڈاکٹر فوزیہ معین ڈاکٹرحسن علوی اور ڈاکٹر سعید شامل ہیں،دوسری طرف پولیس بھی اپنی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

دوسری جانب عصمت کے لواحقین نے کل کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی تفتیش پر ہمیں تحفظات ہیں ۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کراچی کے اسپتال میں عملے کی غفلت سے عصمت نامی لڑکی جان کی بازی ہاری گئی تھی۔

تاہم پولیس نے کمپاؤڈرشاہ زیب کا گرفتار کرلیا ہے جبکہ ڈاکٹر ایاز تاحال مفرور ہےجس کی گرفتاری کیلئے پولیس کی جانب سے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق لڑکی کو موت کے بعد تین گھنٹے تک ٹی بی وارڈ میں ہی رکھا گیا تھا اور مبینہ طورپر 2 افراد نےعصمت کو اپنی حوس کا نشانہ بھی بنایا تھا۔

LEAVE A REPLY