سندھ ہائیکورٹ کی آغا سراج درانی کیخلاف تحقیقات 4 ہفتوں میں مکمل کرنے کی ہدایت

0
68

کراچی:سندھ ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو کو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے خلاف 4 ہفتوں میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس علی احمد شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے اور ضمانت سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت نے استفسار کیاکہ تفتیش کہاں تک پہنچی۔

نیب کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایاکہ آغاسراج درانی کا ریمانڈ مکمل ہوچکا ہے لیکن تحقیقات جارہی ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا ‘آغا سراج درانی کے کھاتے میں کتنی غیر قانونی گاڑیاں آ رہی ہیں جس پر نیب کے تفتیشی افسر نے بتایا 25 گاڑیاں غیر قانونی طریقے سے خریدی گئیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ ‘آپ کب تک نیب ریفرنس داخل کریں گے جس پر نیب کے تفتیشی افسر نے کہا 4 ہفتوں کی مہلت دے دی جائے، عدالت نے کہا اگر 4 ہفتوں میں تحقیقات مکمل نہ کیں تو دستیاب شواہد پر فیصلہ سنا دیں گے۔

عدالت نے ڈائریکٹر نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ‘ڈائریکٹر صاحب، 29 مئی تک تحقیقات مکمل کریں اور جامع جواب جمع کرائیں’۔

آغا سراج درانی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘میرا موکل جیل میں ہے، ضمانت کی درخواست سنی جائے جس پر عدالت نے آبزرویشن دی کہ یہاں صدیوں سے لوگ جیل کے اندر پڑے ہوتے ہیں۔

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نیب کو 4 ہفتے میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔

یاد رہے کہ نیب نے 20 فروری 2019 کو اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹل سے آغا سراج درانی کو گرفتار کیا تھا جن پر آمدن سے زائد اثاثے رکھنے کا الزام ہے۔

LEAVE A REPLY