وزیراعظم نے “ون بیلٹ ون روڈ کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلئے 5 تجاویز پیش کردیں

0
137

بیجنگ:وزیراعظم عمران خان نے چین کےمیگا منصوبے ‘ون بیلٹ ون روڈ’ کے ثمرات عوام تک پہنچانے کے لیے 5تجاویز پیش کردیں۔

وزیراعظم عمران خان نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں شرکت پر خوشی ہے، اس منصوبے کاخواب حقیقت بن رہا ہے، یہ باہمی رابطوں اورشراکت داری کا اہم ذریعہ ہے جبکہ ثقافت و سیاحت کوفروغ دینےکے لیے بھی اہم ہے، پاکستان، چین کی اس بڑی کاوش کا ابتدائی شراکت دارہے۔

روڈ اینڈ بیلٹ منصوبے کے ثمرات عوام تک پہنچانے کیلیے وزیراعظم نے 5 تجاویزپیش کیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں، سیاحت کا فروغ ، کرپشن اور وائٹ کالر کرائمز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، غربت کے خاتمے کے لیے فنڈز کا قیام اور تجارت و سرمایہ کاری کے لیے ماحول بہتر بنانے کی کوششیں کی جائیں۔

وزیراعظم نے پاکستان کی غیر مشروط حمایت پر چین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے سے پاکستان میں توانائی بحران میں کمی ہوئی ہے،چین کے تعاون سے گوادر تیزی سے دنیا کا تجارتی مرکز بن رہا ہے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین سی پیک کے اگلے فیز کی جانب بڑھ رہے ہیں جس میں اسپیشل اکنامک زونز کا قیام ہوگا،انہوں نے کہا کہ ‘ون بیلٹ ون روڈ’ منصوبہ سیاحت کو فروغ دینے کے لیے اہم ہے اور پاکستان چین کی اس بڑی کاوش کا ابتدائی شراکت دار ہے۔

تقریب سے خطاب کے دوران ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان آزاد تجارت کا معاہدہ اہمیت کا حامل ہوگا، ہم بنیادی ڈھانچے، ریلوے ، آئی ٹی اور توانائی میں چین کے ساتھ تعاون چاہتے ہیں اس کے ساتھ زراعت، صحت اور تعلیم میں تعاون کے بھی خواہاں ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ غربت کے خاتمےکے لیے پاکستان میں ‘احساس’ کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے اور ماحول کی بہتری کے لیے دس ارب درخت لگانے کے منصوبے کا بھی آغاز ہوچکا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ وائٹ کالر کرائمزنےترقی پزیر دنیا پراثرات مرتب کیے، پاکستان وائٹ کالر جرائم کے خاتمے کے لیے بھر پور اقدامات کر رہا ہے کیونکہ وائٹ کالر کرائم ہی ترقیاتی کاموں کو برباد کرتا ہے۔

اس دوران وزیر اعظم نے شرکاء کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں اور پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پُرکشش مواقع فراہم کر رہا ہے۔

LEAVE A REPLY