عورت مارچ : لاہور پولیس نے مقامی عدالت میں اپنا جواب جمع کرادیا

0
121

لاہور پولیس نے مقامی عدالت میں عورت مارچ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت میں اپنا جواب جمع کرادیاہے۔

تفصیلات کے مطابق لاہور پولیس نے عورت مارچ کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست کی سماعت میں اپنا جواب جمع کرادیا ہے، پولیس کے ڈسٹرکٹ کمپلینٹ افسر ایس پی فضل مختار کی جانب سے سیشن کورٹ میں جواب جمع کرایا۔

سیشن کورٹ  لاہور میں خواتین مارچ  کے حوالے سے گلوکارہ میشا شفیع سمیت دیگر کیخلاف اندراج مقدمہ کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔مقامی عدالت نے 6مئی کو عورت مارچ کے  خلاف درخواست کی سماعت میں سی سی پی او لاہوراور کمپلینٹ ریڈر سیل کو نوٹسز جاری کرکے جواب طلب کیاتھا ۔

ایڈیشنل سیشن جج عامر حبیب نے ایک غیر سرکاری  تنظیم  کی سربراہ آمنہ ملک کی درخواست پر سماعت کی تھی ۔ آمنہ ملک کی جانب سےایڈووکیٹ اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیاتھا کہ 9 مارچ 2019کو  منعقد کیے گئے عورت مارچ کے نام پر غیر اخلاقی اقدار کو فروغ دینےکی کوشش کی گئی ۔

عدالت کو بتایا گیاکہ عورت مارچ میں گلوکارہ میشا شفیع اور نگہت داد نے بھی حصہ لیا۔

درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے اپنے دلائل میں کہا کہ عورت مارچ کے دوران خواتین نے اخلاقیات سے گرے ہوئے نعرے لگائے جبکہ غیر اخلاقی پلے کارڈ اٹھائے گئے اور  بینرز بھی آویزاں کیے گئے۔

دوسری جانب غیر اخلاقی نعروں پر مبنی پلے کارڈز کو بھی درخواست کا حصہ بنایا گیا ۔

درخواست گزار کا موقف ہے کہ عورت مارچ اسلامی اقدار کے خلاف ہے اور آئین وقانون کے بھی منافی ہے،عدالت عورت مارچ میں حصہ لینے والی خواتین اور عورت مارچ منعقد کروانے والی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

LEAVE A REPLY