فرشتہ مہمند کیس : ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن و دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج

0
71

اسلام آباد: زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 10 سالہ بچی فرشتہ کی گمشدگی کی رپورٹ تاخیر سے درج کرنے پر ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن و دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق  ایف آئی آر کے متن میں کہا گیاہے کہ اہلخانہ نے بچی کو ڈھونڈنے اور ایف آئی آر کے اندراج کیلئےتھانے کے کئی چکر لگائے لیکن پولیس والوں نے ایک نہ سنی، پولیس ایف آئی آر درج کرنے کے بجائے بچی کے لواحقین سے صفائیاں کرواتی رہی جبکہ ایس ایچ او نے بچی کو ڈھونڈنے کے بجائے نامناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ‘ کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی’۔

ایف آئی آر کے مطابق ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کے خلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جائے۔

واضح رہےکہ اسلام آباد میں 2 روز قبل 10 سالہ بچی فرشتہ کی لاش جنگل سے ملی تھی جسے بچی کو مبینہ زیادگی کے بعد قتل کیا گیا۔

فرشتہ کا تعلق خیبرپختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند سے تھا جو اپنے والدین کے ساتھ اسلام آباد کے علاقے شہزاد ٹاؤن میں مقیم تھی، بچی 15 مئی کو لاپتہ ہوئی جس کی پولیس نے گمشدگی کی ایف آئی آر درج کرنے میں 4 دن لگائے۔

لواحقین کا کہنا تھا کہ پولیس نے 5 دن تک بچی کو مرضی سے فرار ہونے کا الزام لگا کر رپورٹ درج نہیں کی۔

دوسری جانب مبینہ زیادتی اور قتل کے خلاف مقتول بچی کے لواحقین نے لاش ترامڑی چوک پر رکھ کراحتجاج کیا اور الزام عائد کیا کہ بچی سے زیادتی اور قتل کی ذمہ دار پولیس ہے۔

LEAVE A REPLY