سندہ یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے خلاف آواز ااٹھانا مہنگا پڑگیا

0
147

جامشورو: سندہ یونیورسٹی میں جنسی ہراسانی کے خلاف آواز ااٹھانا مہنگا پڑگیا۔

تفصیلات کے مطابق سندہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کی طرف سےجنسی ہراسانی  کے خلاف آواز ااٹھانے پرڈائریکٹر ڈاکٹر رابعہ میمن پر مشین چوری کالگایا گیا  الزامبے بنیاد اور بھونڈا ثابت ہوا ۔

 دوسری جانب معاملے کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کو اس وقت تحلیل کیا گیا جب اس نے اپنی سفارشات یونیورسٹی کے کرتا دھرتا ڈاکٹر فتح محمد برفت دینا تھیں۔

ڈاکٹر رابعہ میمن کو کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے گزشتہ ماہ بلایاگیا تھامگرکمیٹی تحلیل ہونے کے بعد ڈاکٹر کو دوبارہ طلب کیا جارہا ہے جبکہ جس مشین کا الزام لگایا گیا وہ ڈیجیٹل مائکرو اسکوپ مشین لیبارٹری میں ہی موجود ہے ۔

دوسری جانب اس سارے عمل میں ایک بات واضح ہے کہ ڈاکٹر فتح محمد برفت اور انتظامیہ جنسی ہراسانی کے کیس کو دبانے کیلئے ڈاکٹر رابعہ پر مشین چوری کا الزام عائد کررہی ہے۔

LEAVE A REPLY