جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ محفوظ

0
46

اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک ویڈیو کیس کی سماعت ہوئی جس میں وفاقی خفیہ تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے معاملے سے متعلق رپورٹ جمع کروائی۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر آزادی کی درخواست داخل کی جائے تو ویڈیو نواز شریف کیلیے سودمند ثابت ہوگی۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جج ارشد ملک کی خدمات فوری طور پر واپس کی جائیں ایسا نہ کرکے وفاقی حکومت انہیں تحفظ فراہم کررہی ہے۔

انہوں نے کہا  کہ سمجھ سے بالا تر ہے کہ حکومت انہیں اپنے پاس رکھ کرکیا کرنا چاہتی ہے،  ایسے کردار کے مالک جج کو کوئی بھی بلیک میل کرسکتا ہے۔

جسٹس کھوسہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ناصر جنجوعہ نے یہ دعویٰ کیا کہ جج ارشد ملک کی تعیناتی انکی مرضی سے ہوئی کیا وہ بااثر شخص سامنے آیا جس نے انکی تعیناتی کروائی؟ ارشد ملک نے ملک بھر کے ججوں  کا سر شرم سے جھکا دیا۔

اٹارنی جنرل نے معزز عدالت کو بتایا کہ  جج کی تقرری کروانے والے شخص کا پتا نہیں چلا، جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ اسکا مطلب ہے کہ اس وقت کی حکومت نے پانامہ فیصلے کے بعد  جج ارشد ملک کی تقرری کی منظوری دی۔

جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کہ متنازعہ ویڈیو کا فرانزک کیا گیا؟ جس پر ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے جواب دیا کہ مذکور ہ ویڈیو ہمارے پاس موجود نہیں۔

ڈی جی ایف آئی اے کے جواب پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ سوائے آپکے وہ ویڈیو پورے پاکستان کے پاس موجود ہے، پورا ملک اور عدالت ایک ہی سوال پوچھ رہی ہے کہ کیا یہ ویڈیو اصلی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عجیب جج ہے فیصلہ دے کر ملزمان کے گھر جارہا ہے، ملزم کے بیٹے سے ملنے سعودی عرب جاتا ہے، ارشد ملک کے کردار کے حوالے سے کافی باتیں سامنے آئی ہیں اور عدلیہ کی حد تک یہ معاملہ ہم خود دیکھیں گے۔

جسٹس کھوسہ نے  کہا کہ اس کیس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے آئندہ دو سے تین روز میں فیصلہ سنایا جائیگا اور سماعت ملتوی کردی۔

LEAVE A REPLY