ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن منیر کھوڑو کا انوکھا کارنامہ

0
65

کراچی: اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سکھر کے ڈپٹی ڈائریکٹر منیر کھوڑو کا انوکھا کارنامہ، قانون کی دھجیاں اڑا کر کرپشن کیس کی ایف آئی آر داخل کرنے کی بجائے تفتیشی افسر کی سفارش کو رد کرکے کیس بند کردیا۔

سندھ پوسٹ کو موصول ہوئے ثبوتوں کے مطابق محکمہ آبپاشی کے افسروں اور ٹھیکیداروں کے خلاف کام نہ کرنے اور غلط بلنگ کرکے سرکاری خزانے کو ڈھائی کروڑ روپے کا نقصان پہنچانے پر تفتیشی افسر سانول گھوٹو نے کیس داخل کرنے کی سفارش کی تھی۔

تفتیشی افسر نے مجسٹریٹ کے ہمراہ چھاپہ مار کر مذکورہ افسران اور ٹھیکیداروں کے خلاف ثبوت اکٹھے کیے تھے اور کیس داخل کرنے کیلیے ای سی سی ون سے منظوری کی سفارش کی تھی۔

گھوٹکی کے سرکلر افسر محمد سانول گھوٹو نے سابق ایکسیئنز عابد حسین، زاہد حسین، محمد یونس، محمد علی، اے ایکسیئنز شوکت علی، عزیزالرحمٰن، علی مراد منگی، غلام نجف، آغا فیض، فیروز ڈومکی، انور سومرو، ڈویژنل اکاؤنٹنٹ ریاض کمبوہ اور ٹھیکیداروں عبدالحفیظ اینڈ کمپنی، جان محمد اینڈ برادرز، عبدالرشید کلوڑ اور ظفراللہ مہر کیخلاف کیس داخل کرنے کی سفارش کی اجازت مانگی تھی۔

سینیئر سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ مختیار حسین لاشاری کی موجدگی میں مارے گئے چھاپے کے دوران جعلی بل، چیک اور دوسرا اہم ریکارڈ ضبط کیا گیا تھا۔

سندھ پوسٹ کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق سال 15-2014 کے دوران مختلف ٹھیکوں کی مد میں ٹھیکیداروں نے لگ بھگ دو کروڑ 49 لاکھ کا چونا سرکار خزانے کو لگایا۔

اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ سکھر کے ڈپٹی ڈائریکڑ منیر کھوڑو نے تفتیشی افسر محمد سانول گھوٹو کی سفارش کو رد کرتے ہوئے  ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کو کیس بند کرنے کی سفارش کی ہے۔

منیر کھوڑو کی جانب سے لکھے گئے خط میں تفتیشی افسر کی رپورٹ سے اختلاف کرتے ہوئے اور قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیس کو بند کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر اینٹی کرپشن فیاض عباسی نے دونوں سفارشوں کا تحقیقی بنیادوں پر جائزہ لینے کیلیے کیس ٹیکنیکل افسر کے حوالے کردیا ہے اور کہا ہے کہ کیس کا فیصلہ میرٹ کی بنیادوں پر کیا جائے گا۔

LEAVE A REPLY