حلیم عادل شیخ اور فردوس شمیم کی آرٹیکل 149 کے نفاذ کی حمایت

0
76

کراچی: پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) رہنماؤں فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ نے کراچی میں آرٹیکل 140 کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنقید کرنے والے سندھی میڈیا کے صحافیوں کو ٹھٹہ سمیت دیگر شہروں کی حالت نظر نہیں آتی۔

کراچی میں آرٹیکل 149 (4) کے نفاذ کے حوالے سے پی ٹی آئی رہنماؤں خرم شیر زمان، فردوس شمیم نقوی اور حلیم عادل شیخ نے مشرکہ پریس کانفرنس کی۔

اس موقع پر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وہ آرٹیکل 149 کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ نیا پاکستان بن چکا ہے جبکہ نیا کراچی اور نیا سندھ بھی بنے گا۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پاکستان کے مسیحا ہیں، کراچی کے حوالے سے ایک کمیٹی بنارہے ہیں جسکے ٹی او آرز جلد طے کیے جائیں گے اور کراچی کی بہتری کیلیے سفارشیں دی جائیں گی۔

دورانِ پریس کانفرنس انہوں نے کہا وہ سندھ کی تقسیم کے بھی خلاف نہیں جبکہ بعدازاں فردوس شمیم نقوی نے انکی تصحیح کی کہ ہماری پارٹی سندھ کی تقسیم کیخلاف ہے۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما فردوس شمیم نقوی نے اس موقع پر کہا کہ 12 سال سے زائد عرصہ پی پی کی حکومت سندھ میں رہی ہے مگر ابھی تک بنیادی مسائل ہی حل نہیں ہوسکے۔

فردوس شمیم نے کہا کہ وزیرِاعظم عمران خان نے ایک ماہ میں کراچی کی بہتری کیلیے سفارشات تجویز کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

رہنما تحریکِ انصاف نے مزید کہا کہ اگر کراچی ترقی کریگا تو سندھ ترقی کریگا اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک شہر کا انتظامی ڈھانچہ تبدیل نہ کیا جائے۔

سندھ اسمبلی میں قائد، حزب اختلاف نے سندھی میڈیا اور سندھی صحافیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کیا وہ ٹھٹہ اور دیگر شہروں کے حالت سے واقف نہیں انکو فروغ نسیم کی بجائے پی پی سرکار سے استعفیٰ مانگنا چاہیے۔

LEAVE A REPLY